پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پاک ترک سکول کامعاملہ سنگین ہوگیا،طلباکے والدین نے حکومت کوبڑی دھمکی دیدی

datetime 24  فروری‬‮  2017 |

کوئٹہ (آن لائن )پاک ترک سکول کے طلباء کے والدین نادیہ بی بی ، سونیا بی بی اور نعمت اللہ نے سکولوں پر قبضے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے عالم گیر خان کی مثبت جدوجہد کی حمایت کا اعلان کردیا۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو شدید سیاسی دباؤ کے ذریعے دھمکایا جارہاہے کہ انہیں ایک بدنام تنظیم معارف

فاؤنڈیشن کے حوالے کیاجائیگا جسکی سرپرستی موجودہ ترک حکومت کررہی ہے انہوں نے بتایا کہ اگست 2016ء میں پاک ترک فاؤنڈیشن سکولوں کو متوقع نقصان سے بچانے کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا وزارت خارجہ اور داخلہ کے آفیسران نے پاک ترک تعلیمی اداروں میں دخل اندازی سے اور ادارے کو کسی دوسری فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے سے بھی انکار کیاحالانکہ 20سال قبل پاک ترک ادارے قائم ہوئے تھے جو ہماری نئی نسل کو معیاری تعلیم فراہم کررہے تھے انہوں نے کہا کہ ترک صدر کے گزشتہ برس پاکستان کے دورے کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے جذبہ خوش سگالی کے طورپر 108ترک اساتذہ کو خاندان سمیت 3دن میں ملک بدر ہونے کا حکم دیا تھا لیکن وزارت داخلہ کی جانب سے ویزوں میں تاخیر کے باعث ان کی روانگی لیٹ ہوئی انہوں نے کہا کہ پاک ترک سکول کے اساتذہ اور انتظامیہ نے ہمیشہ قدرتی آفات میں پاکستانی عوام کی مدد کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین پر دو ترک شہریوں کو بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے جسکا مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہے اور میڈیا میں پاک ترک اداروں کو معارف فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے کی باتیں سامنے آرہی ہے اور عالم گیرخان پر دباؤ ڈالا جارہاہے اور حکومتی ادارے اس میں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عالمگیر خان کیساتھ بچوں کے سکولوں پر قبضے کی ناجائز کوششوں پر انکی مثبت جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…