پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

ان جج صاحب کو مسجد میں۔۔۔۔۔ عدالت کی جانب سے ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگتے ہی عاصمہ جہانگیر میدان میں آگئیں کیا کچھ کہہ دیا ؟ جان کر یقین نہیں کریں گے

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب میں بسنت کی اجازت نہ ملنے اور ویلنٹائن ڈے منانے پر عدالتی پابندی کو بہت سے لوگوں نے جہاں سراہا وہیں ملک کی کچھ اہم شخصیات نے اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔حکومت اور عدالت کے ان فیصلوں کو ہدف تنقید بنانے والوں میں معروف قانون دان عاصمہ جہانگیربھی شامل ہیں جن کو ان کی تنقید پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس وقت خفت اور عجیب حالات کا سامنا کرنا پڑ گیا جب انہوں نے

اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے حکومت اور عدالت کے فیصلوں کو تنقید کی تو جواب میں ان کے پیغام پر ایک صارف نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے ان کی بیٹی نمبر ہی مانگ لیا تاہم عاصمہ جہانگیرنے بھی پھر ایسا جواب دیا کہ آپ کی ہنسی نہ رکے گی۔ عاصمہ جہانگیر نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں پتنگ بازی پر لوگوں کی گرفتاری اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”ہوشیار! پرامن پاکستانی پتنگ بازی پر گرفتار ہوں گے، ہائیکورٹ نے ویلنٹائن ڈے منانے سے بھی منع کر دیا ہے۔۔۔ بس آپ اگلے دھماکے کا انتظار کریں۔“ عاصمہ جہانگیر کے اس ٹویٹ پر ایک ٹوئٹر صارف نے جواب دیا کہ ”برائے مہربانی مجھے اپنی بیٹی کا نمبر دیدیں، میں انہیں ویلنٹائن ڈے کی مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔“ عاصمہ جہانگیر نے ٹوئٹر صارف کے اس جواب کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے خوشگوار موڈ میں جواب دیا کہ ”پہلے مجھے تو مبارکباد دیدو۔“صارف بھی پیچھے رہنے والوں میں سے نا تھا اور فوراً جواب دیا کہ ”ہیپی ویلنٹائن ڈے آنٹی جی! “ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد دلا دیا کہ میں آپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں مگر فون نمبر کیساتھ۔واضح رہے کہ اس سے قبل عاصمہ جہانگیر کا لاہور ہائیکورٹ کے ویلنٹائن ڈے پا پابندی کے فیصلے پر ایک بیان سامنا آچکا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قانون کے مطابق نہیں دیا گیا ، جج صاحب کو عدالت نہیں بلکہ مسجد میں خطیب ہونا چاہئے تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…