پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں میڈیکل سٹورز بندہونے سے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا،مریض تڑپتے رہے

datetime 14  فروری‬‮  2017 |

لاہور/کراچی /راولپنڈی /فیصل آباد /گوجرانوالہ/پشاور( این این آئی)پنجاب بھر میں میڈیکل سٹورز بندہونے سے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا،مریض تڑپتے رہے،ڈرگ ایکٹ 1976میں ترامیم کیخلاف فارما سیوٹیکل مینو فیکچررز ، کیمسٹ اور ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن سمیت دیگر تنظیموں نے ہڑتال کر کے مختلف مقامات پر احتجاج کیا ، لاہور میں مختلف تنظیموں کے زیر اہتمام ریلیاں نکالی گئیں اور بعد ازاں مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جس سے شہر بھر میں ٹریفک کانظام درہم برہم رہا اور ایمبولینسز بھی ٹریفک جام میں پھنسی رہیں،

ڈسٹری بیوشن اور میڈیکل سٹورزکی بندش سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، حکومتی مداخلت کے بعد دوپہر کے بعد چین فارمیسی کھل گئیں جبکہ ڈرگ انسپکٹرز بھی میڈیکل سٹور ز کھلوانے کیلئے کارروائیاں کرتے رہے ، پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ جعلی ادویات بنانے پر کسی کو نہ پوچھا جائے ایسا جنگل کا قانون رائج نہیں ہو سکتا ، کسی کو ’’ لائنس ٹو کل ‘‘ مل جائے ایسا برداشت نہیں کر سکتے بلکہ عوا م کے مفاد میں ہر صورت معیاری ادویات بنوائیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق ڈرگ ایکٹ 1976ء میں ترامیم کے خلاف پاکستان فارما سیوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن ،پاکستان کیمسٹ ایسوسی ایشن ،پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن ،ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن ، ایچ پی سی اے سمیت دیگر تنظیموں نے ہڑتال کرکے احتجاج کیا ۔کراچی میں ہول سیل مارکیٹ اور ڈسٹری بیوشن بند رہی جبکہ خیبر پختواہ کی مختلف تنظیموں نے بھی ہڑتال کرنے والوں سے اظہار یکجہتی کیا ہے ۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں میڈیکل سٹورز بند رہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف مقامات پر اکا دکا میڈیکل سٹورز کھلے رہے تاہم انہیں ادویات کی سپلائی نہ مل سکی ۔ لاہور میں مختلف مقامات پر احتجاج کے بعد ریلیاں نکالی گئیں اور بعد ازاں مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا گیا ۔

ریلیوں اور دھرنے کے باعث مال روڈ اور اس سے ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کا بد ترین ٹریفک جام رہا ۔اس موقع پر مظاہرین ترمیمی ڈرگ ایکٹ نامنظور ، کالا قانون نامنظور کے نعرے لگاتے رہے۔صوبائی دارالحکومت لاہور،راولپنڈی،سرگودھا،فیصل آباد ،ملتان،بھکر،رحیم یار خان،گوجرانوالہ،گجرات،بوریوالا، چیچہ وطنی ،ننکانہ صاحب اور دیگر شہروں میں ادویات کی ترسیل اور میڈیکل اسٹورز بند رہے۔لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کے باہر قائم میڈیکل اسٹورز کی بندش سے مریضوں کو ادویات کے حصول میں شدید پریشانی کا سامنا رہا ۔۔ پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے ترجمان نور مہر نے بات چیت کرتے ہوئے کہا فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے کبھی ہڑتال نہیں کی ، حکومت سے بارہا مذاکرات کیے لیکن حکومت نے ایک بات نہ مانی ۔ پنجاب میں دوا ساز کمپنیوں اور میڈیکل سٹور مالکان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے حیدر آباد کے میڈیکل سٹور مالکان نے مظاہرہ کیا اور ڈرگ ایکٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ دوسری طرف محکمہ صحت پنجاب میڈیکل سٹورز کھلوانے کے لئے متحرک رہا ۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر خود مارکیٹوں میں جا کر میڈیکل سٹورز کھلوانے کے لئے کاوشیں کرتے ہوئے دکھائی دئیے جبکہ ڈرگ انسپکٹروں کو بھی متحرک رکھا گیا ۔ حکومت مداخلت اور فول پروف سکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد مختلف مقامات پر چین فارمیسی نے اپنا کاروبار کھول لیا ۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ایکٹ میں ترمیم کیلئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہ کرنے کا تاثر قطعی غلط ہے اور اس حوالے سے میٹنگز کا مکمل ریکارڈ موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے مرضی غیر معیاری ادویات بیچی جائیں اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو اس کی کسی صورت اجاز ت نہیں دے سکتے ۔ چور کی سزا چور سے پوچھ کر تجویز کی جائے مہذب معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا میڈیکل سٹورز والوں سے کوئی معاملہ ہی نہیں لیکن فارما سیوٹیکل کمپنیوں سے کریڈٹ پر ادویات لینے کی وجہ سے انہوں نے شٹر ڈاؤن کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جائز معاملات کے حل کیلئے ہر وقت بیٹھنے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر کوئی حکومت کا بازو مروڑنا چاہے تو ایسا نہیں ہوگا۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ سائنس اور کرائم سیفٹی وال کیلئے ٹیکنیکل ایکسپرٹ کو بٹھانے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ادویات کا انٹر نیشنل سٹینڈرڈ ہو اور کسی کو ان کی ایکسپورٹ پر شک نہ ہو ۔حکومت معیاری ادویات بنوائے گی ۔ ہربل والے کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو ہم یہ نہیں کہتے کہ سب غلط کام کر رہے ہیں لیکن کسی کو لائنس ٹو کل دیدیا جائے ایسا برداشت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں کہیں بھی ادویات کی قلت نہیں ، چین فارمیسی نے اپنا کاروبار کھول لیا ہے اور جن میڈیکل سٹورز نے ہڑتال نہیں کی ہم ان کے بھی شکر گزار ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…