اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

مشین ریڈایبل پاسپورٹ ،بیرون ملک مقیم پاکستانی نئی مشکل میں پھنس گئے

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں/مشنوں میں مشین ریڈایبل پاسپورٹ سیکشن کے اجراء سے جہاں پاکستانی تارکین وطن کو بے حد سہولت میسر آئی ہے وہاں ان سیکشنوں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کیے جانے والے پاکستان ایمگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈائریکٹریٹ کے ملازمین کو بے انتہا مسائل کا سامنا کرناپڑ ر ہا ہے،

ان ملازمین نے ایک مشترکہ عرض داشت میں وزیراعظم میاں محمدنوازشریف،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزارت خارجہ کے ارباب بست وکشاد سے پرزور اپیل کی ہے کہ ان کے مسائل کے حل کیلئے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ ان کی وجہ سے انہیں سخت ذہنی کوفت اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،اس سکیم کے اجراء سے جہاں سفارتخانوں کے اہلکاروں کے مفادات پر زدپڑی ہے وہاں اسسیکشن کے ملازمین سے بے جا اور ناروا سلوک اور رویہ روا رکھا جارہا ہے اور انہیں اپنی من مانیاں کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جبکہ ملازمین اپنے محکمے کے احکامات، ہدایات اور قواعد وضوابط کے مطابق پاسپورٹوں کے اجراء کو ترجیح دیتے ہیں،جس کی وجہ سے سفارتخانے کے اہلکار نہ صرف بلاوجہ ماحول کو خراب کرتے ہیں بلکہ ملازمین کو بے جا زیادتیوں کا نشانہ بھی بناتے ہیں،مینول پاسپورٹوں کے اجراء کے خاتمے کی وجہ سے سفارتکاروں کے اہلکاروں کی ذمہ داریاں ختم ہوگئی ہیں لیکن وہ اپنے مخصوص مفادات کے تحت ایم آر پی کے ملازمین کو من مانی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ملازمین کی طرف سے بارہا محکمہ اور وفاقی وزارت داخلہ کی توجہ مبذول کرانے کے باوجود نہ تو کوئی اقدامات کیے جارہے ہیں نہ ہی ایم آر پی کے ملازمین کی کوئی دل جوئی کی جارہی ہے اور دفتری ماحول کو خراب کرکے ملازمین کو بددل کیا جارہا ہے۔

عرض داشت میں کہا گیا ہے کہ متعدد سفارتی اہلکار عرصہ سے اپنی آسامیوں پر تعینات ہونے کی وجہ سے ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں اور سفارتخانوں کے اہلکار پاکستانی تارکین وطن کیلئے پریشانیوں کا سبب بنے رہتے ہیں،پاکستانی تارکین وطن نے ایم آر پی کے اجراء کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں پاسپورٹوں کے جلد حصول میں حائل رکاوٹوں کا ازالہ ہوگیا ہے مگر سفارتی اہلکار اپنی پرانی روش کی وجہ سے متعلقہ سیکشن کے ملازمین کیلئے الجھنیں پیدا کررہے ہیں،عرض داشت میں اپیل کی گئی ہے کہ سفارتی اہلکاروں کو ایم آر پی ملازمین سے روا رکھے جانے والے غیر منصفانہ رویے کی اصلاح کی سختی سے ہدایت کی جائے اور ایم آر پی ملازمین کو جملہ مراعات ،تحفظ اور سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے فرائض منصبی پوری دلجمعی سے انجام دے سکیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اس سلسلے میں فوری نوٹس لیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ارباب بست وکشاد کو سفارتی اہلکاروں کو ملازمین سے ناروا رویہ اور سلوک سے باز رہنے کی سختی سے تلقین کرے،ان ملازمین نے کہاکہ ایک طرف تو انہیں ان کی ملازمتیں ریگولر نہ کیے جانے کی پریشانی لاحق ہے دوسری طرف انہیں کئی کئی ماہ تک تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے۔جس کی وجہ سے ناصرف انہیں اپنی جائے تعیناتی بلکہ وطن عزیز میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،عرض داشت میں اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ ان کے مسائل کے ازالے کی طرف بھرپور توجہ دی جائے گی،سفارتی اہلکاروں کے جانب دارانہ رویے کی اصلاح کیلئے فوری اور موثر اقدام کیے جائیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…