منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

سانحہ کوئٹہ،مولانا احمدلدھیانوی سے ملاقات،بالاخر چوہدری نثار نے خودپر لگائے گئے اعتراضات کاجواب دیدیا

datetime 4  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے سانحہ کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے اپنا 64 صفحات پر مشتمل جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا جس میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،پاک فوج اور وزرات داخلہ نے مل کر دہشت گردی ختم کرنے کے لیے کام کیا‘دہشت گرد تنظیم پر پابندی فوری طور پر نہیں لگائی جاسکتی

بلکہ اس کی نگرانی کی جاتی ہے،صرف میڈیا، سوشل میڈیایا دہشت گرد تنظیم کے دعوے پر کالعدم قرار نہیں دے سکتے‘کمیشن رپورٹ میں تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وزارت اورادارے کارروائی سے ہچکچارہے ہیں اور وزارت داخلہ نے انٹیلی جنس اداروں سے شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دینے پررپورٹ مانگی حالانکہ ایسا کرنا غیر منطقی بات نہیں بلکہ طریقہ کار ہے‘ وزارت داخلہ پرلگائے جانیوالے اعتراضات کا مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا‘ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ سپریم کورٹ وزارت داخلہ کے حوالے سے کمیشن کے ریمارکس پر نظر ثانی کرے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے سپریم کورٹ میں خود پر لگائے گئے اعتراضات کا 64 صفحات پر مشتمل تحریری جواب اپنے وکیل مخدوم علی کے توسط سے جمع کرایا ہے۔چوہدری نثار نے جواب میں کہا ہے کہ کوئٹہ کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،پاک فوج اور وزرات داخلہ نے مل کر دہشت گردی ختم کرنے کے لیے کام کیا۔وفاقی وزیرداخلہ نے کہاکہ وزارت داخلہ پرلگائے جانیوالے اعتراضات کا مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا،

جبکہ کوئٹہ سانحے کے حوالے سے بلوچستان حکومت کی جانب سے صرف ایف آئی آر کا اندراج کرایاگیا اوربلوچستان حکومت نے لشکر جھنگوی اورمجلس احرار کو کالعدم قرار دینے کا کہا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کمیشن رپورٹ میں تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وزارت اورادارے کارروائی سے ہچکچارہے ہیں اور وزارت داخلہ نے انٹیلی جنس اداروں سے شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دینے پررپورٹ مانگی

حالانکہ ایسا کرنا غیر منطقی بات نہیں بلکہ طریقہ کار ہے۔ چوہدری نثار نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ وزارت داخلہ نے اگست 2016 کے واقعے کے بعد فوری ایکشن لیااور دہشتگرد تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا عمل شروع کر دیاگیااور ان شدت پسند تنظیموں کوکالعدم قرار دینے اور مکمل پابندی لگانے میں 3 ماہ لگے۔ انہوں نے اپنے جواب میں کہاکہ دہشت گرد تنظیم پر پابندی فوری طور پر نہیں لگائی جاسکتی

بلکہ اس کی نگرانی کی جاتی ہے،صرف میڈیا، سوشل میڈیایا دہشت گرد تنظیم کے دعوے پر کالعدم قرار نہیں دے سکتے۔چوہدری نثار نے کہاکہ سانحہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور چرچ دھماکوں کے بعد جماعت الاحرار پر پابندی نہیں لگائی اور مثال دی گئی کہ برطانیہ نے بھی جماعت الاحرار کو کالعدم قرار دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہرملک کے اپنے قوانین،اصول اور طریقہ کار ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں چوہدری نثار کا کہناہے کہ لاہورچرچ حملے پر پنجاب حکومت نے بتایاتھا کہ ذمہ داروں کاتعلق ٹی ٹی پی سے ہے لشکرجھنگوی العالمی‘ جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی تحریک طالبان مہمند سے منسلک ہیں اور لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان مہمند کو 2001 میں کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔ چوہدری نثارنے مولانا احمد لدھیانوی سے ملاقات کے حوالے سے کہ

اکہ وہ دفاع پاکستان کونسل سے ملاقات کے حوالے سے دئیے گئے غلط تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دفاع پاکستان کونسل کے وفد سے ملاقات تھی اور ان کے علم میں نہیں تھا کہ مولانا سمیع الحق کے ساتھ احمد لدھیانوی بھی ہوں گے۔ وزارت داخلہ نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ وہ کمیشن کی رپوٹ میں وزارت داخلہ کے حوالے سے اپنے ریمارکس پر نظر ثانی کرے۔ ۔۔۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…