اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

علم کا نشہ بوقت نزع بھی نہ اتر سکا

datetime 31  جنوری‬‮  2017 |

جب امام یوسف رحمتہ اللہ علیہ پر نزع کی کیفیت طاری تھی اس وقت انہوں نے ایک شاگرد سے مسئلہ پوچھا کہ رمی جمار ’’(راکبا) سوار ہو کر افضل ہے یا ماشیا (پیدل) افضل ہے اس نے کہا کہ راکبا فرمایا لا اس نے کہا ماشیاء‘ آپ نے فرمایا لا‘ پھر بتایا کہ راکبا کب افضل ہے اور ماشیا کب افضل ہے ابھی یہ مسئلہ بتا رہے تھے کہ اسی دوران ان کی وفات ہو گئی۔

علماء نے لکھا ہے کہ آخر انہوں نے یہ مسئلہ کیوں پوچھا؟ انہوں نے اس کا جواب بھی لکھا ہے کہ موت کے آخری لمحات میں بندے کے پاس شیطان آتا ہے ممکن ہے اس وقت شیطان آیا ہو اور امام صاحب نے جیسے ہی شیطان کو دیکھا انہوں نے اس وقت رمی جمار کا مسئلہ چھیڑ دیا اور اسی رمی جمار کے مسئلہ کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ان کو شیطان سے نجات عطا فرما دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…