اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

اٹک جیل میں اسحاق ڈار سےنواز شریف کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا بیان کیسے لیا گیا؟

datetime 30  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) وزیرمملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے کہاہے کہ بندوق کی نوک پر کسی سے کوئی بھی بیان لیا جاسکتا ہے ٗ اسحاق ڈار سے اٹک جیل میں لئے گئے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ٗاسٹیج پر ناچنا کوئی سیاست نہیں ٗبچگانہ فعل ہے ٗعمران خان کو اپنے کالے دھن کا پیسہ سفید کرنے پر بھی شرمندگی نہیں۔پاناما کیس کی سماعت کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرمملکت

برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے کہاکہ اسٹیج پر ناچنا کوئی سیاست نہیں، یہ بچگانہ فعل ہے، تحریک انصاف کی سیاست پاکستان کے بنیادی مسائل کیلئے نہیں بلکہ وزیر اعظم کے خاندان کی کردار کشی ہے، ان کی توپوں کا رخ پہلے نوازشریف پھرمریم نواز اور اب اسحاق ڈارکی طرف ہے، حدیبیہ پیپرز مل کا معاملہ گزشتہ 25 سال سے زیر بحث آرہا ہے، حدیبیہ پیپرز مل گڑھا ہوا مردہ ہے جسے کھود کر پی ٹی آئی جشن منانا چاہتی ہے۔انوشہ رحمان نے کہاکہ دور آمریت میں ایسے بیانات سنجیدہ نہیں ہوتے، بندوق کی نوک پر کسی سے کوئی بھی بیان لیا جاسکتا ہے، اسحاق ڈار سے اٹک جیل میں لئے گئے بیان کی کوئی اہمیت نہیں، حدیبیہ ملز کے معاملے پر کوئی سرکاری رقم شامل نہیں، 1999 کے شب خون سے پہلے قرض کی 1.2 ارب کی رقوم ادا کردی گئی تھیں جو ریکارڈ پر ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم انصاف کی توقع رکھتے ہیں حدیبیہ پیپرملزکیس کو13 ججوں نے سنا اور ختم کیا اس لیے اب اس کودفن کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔اس موقع پر دانیال عزیز نے کہاکہ پاناما کیس میں پی ٹی آئی کو شکست ہوچکی ہے، وہ لوگوں کے ذہنوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور جھوٹے الزامات لگا کرکیس کوسہارا دے رہے ہیں ٗ ہم نے عمران خان کے ہرالزام کا ثبوتوں کے ساتھ سامنا کیا، عمران خان کو اپنے

کالے دھن کا پیسہ سفید کرنے پر بھی شرمندگی نہیں۔ جہانگیر ترین اور عمران خان خود اعترافی بیان دے چکے ہیں، پارلیمنٹ کے سامنے قبریں کھودنے والے اب بھی قبریں کھود رہے ہیں، ان بیچاروں پرترس آتا ہے،یہ حواس باختہ ہوچکے ہیں۔مائزہ حمید نے کہاکہ عمران خان نے کل 5 ہزار افراد کی جلسی میں پاناما پیپرز بیچنے کی کوشش کی ہے، ان کی جلسیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے پیپرز مسترد ہوچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ امریکی ویزے بند کرنے کے حوالے سے عمران خان کا بیان غیرذمہ دارانہ تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…