اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

سی پیک،فوجی عدالتیں اور افغانستان،ہم پاگل نہیں کہ بلاوجہ مخالفت کریں ،اسفندیارولی خان نے اہم پیشکش کردی

datetime 29  جنوری‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی)عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ حکومتوں کو مدت سے پہلے ختم کرنے کی روایت درست نہیں ہے ،سی پیک اور فوجی عدالتوں کے مسائل پر وزیراعظم اے پی سی بلا کر سب کو اعتماد میں لیں ، سی پیک میں کے پی اور بلوچستان میں لوگوں پر ظلم نہ ہو تو ہم پاگل نہیں کہ مخالفت کریں ، ہر مسئلے پر کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے ۔

وہ اتوار کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ کے پی کے وزیراعلیٰ ایک دن کہتے ہیں سی پیک پر مطمئن ہوں اور اگلے دن کہتے ہیں کہ مطمئن نہیں ہوں ،حکومت سی پیک پر انڈسٹریل زونز کی لسٹ نہیں دیتی اس لئے خدشات پیدا ہوتے ہیں ۔ اسفندیار ولی نہیں کہا کہ حکومتوں کو مدت سے پہلے ختم کرنے کی روایت درست نہیں ہے ،نئی حکومت بدقسمتی سے پرانی حکومت کی پالیسی کو ایک طرف رکھ دیتی ہے ، خیبرپختونخوا اور مرکز کا معاہدہ نہیں ہوسکتا،کے پی اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر کرپشن کا الزام لگایا ۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری درست ہوتاکہ فاٹا کو مناسب نمائندگی ملے ، فاٹا کیلئے کابینہ میں خاص کوٹہ رکھا جائے اور فاٹا کیلئے وفاق کی طرف سے علیحدہ سے گرانٹ دینا بھی ضروری ہے ، فاٹا معاملے پر جتنا وقت لگے گا یہ معاملہ گھمبیر ہوتا جائے گا اس مسئلے کو جلدی حل کرنا چاہیے ،ہر مسئلے پر کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے ، سی پیک اور فوج عدالتوں کے مسائل پر وزیراعظم اے پی سی بلا کر سب کو اعتماد میں لیں ۔اسفند یار ولی نے کہا کہ کے پی اور بلوچستان میں لوگوں پر ظلم نہ ہو تو ہم پاگل نہیں کہ مخالفت کریں ، نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل درآمد تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ،افغانستان اور پاکستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے ،دونوں ملکوں کو اپنے درمیان غلط فہمیاں دور کرنیچاہیے۔

اگر فرنٹ ڈور پالیسی کامیاب نہیں ہوتی تو بیک ڈور پالیسی شروع کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ نئے الیکشن میں ہم نئے منشور کیساتھ آئیں گے ،2013کے الیکشن میں ہمارا چیف الیکشن کمشنر حکیم اللہ محسود تھا اس نے ہمارے سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں کو قتل کروا دیا ،اصولوں کی سیاست کرنے والوں کو پیچھے کر کے دھرنے اور احتجاج کی سیاست کرنے والوں کو آگے لایا جاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…