پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

لیبیا کے حکمراں معمر قذافی نے ایٹم بم بنانے کیلئےپاکستان کو 50کروڑ ڈالرکس طرح پہنچائے؟

datetime 29  جنوری‬‮  2017 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسرنے اس وقت کی امریکی حکومت کو پاکستان کی جانب سے پلوٹونیم کشید کرنے والے ری پراسیسنگ پلانٹ کے بارے میں خبردار کیاتھا، میڈیارپورٹس کے مطابق یہ باتیں بین الاقوامی انٹیلیجنس پر امریکی صدر کو مشاورت فراہم کرنے والے سی آئی اے کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے نومبر 1982 میں امریکا پر اثر انداز ہونے والے عالمی

واقعات نامی رپورٹ میں کیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور پھیلاؤ” سے متعلق عوام میں جاری کی گئی ایک اور دستاویز ”ورلڈوائڈ رپورٹ“ میں جولائی 1981 کی ایک جرمن اخباری خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھاکہ کس طرح جرمن سائنسدانوں، اور اس وقت کے لیبیا کے حکمران قذافی نے خفیہ طور پر پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے میں مدد دی تھی۔مضمون میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ قذافی نے پی آئی اے کے طیاروں کے ذریعے 50 کروڑ ڈالر کراچی پہنچائے ۔مضمون کی شروعات میں ہی کہا گیا کہ صرف چند دن قبل پاکستانی جنرل ضیاء الحق نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ملک کا ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، مگر خفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کے لیے کام تیزی سے جاری رہا پاکستان کے مددگار فیڈرل ری پبلک آف جرمنی کے سائنسدان اور لیبیا کے حکمران قذافی تھے، جو تیل سے کمائی گئی دولت پاکستان کو اس کام کے لیے فراہم کرتے رہے،مضمون میں تین جرمن اور چار پاکستانیوں، بشمول ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کی ملاقات کا بھی ذکر ہے۔رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ قذافی اور بھٹو نے اسلام آباد میں ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کے مطابق لیبیاکے فراہم کردہ فنڈز سے پاکستان ایٹم بم تیار کرے گا، جبکہ بدلے میں لیبیا کو تیار شدہ ایٹمی ہتھیار ملیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…