اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

لیبیا کے حکمراں معمر قذافی نے ایٹم بم بنانے کیلئےپاکستان کو 50کروڑ ڈالرکس طرح پہنچائے؟

datetime 29  جنوری‬‮  2017 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسرنے اس وقت کی امریکی حکومت کو پاکستان کی جانب سے پلوٹونیم کشید کرنے والے ری پراسیسنگ پلانٹ کے بارے میں خبردار کیاتھا، میڈیارپورٹس کے مطابق یہ باتیں بین الاقوامی انٹیلیجنس پر امریکی صدر کو مشاورت فراہم کرنے والے سی آئی اے کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے نومبر 1982 میں امریکا پر اثر انداز ہونے والے عالمی

واقعات نامی رپورٹ میں کیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور پھیلاؤ” سے متعلق عوام میں جاری کی گئی ایک اور دستاویز ”ورلڈوائڈ رپورٹ“ میں جولائی 1981 کی ایک جرمن اخباری خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھاکہ کس طرح جرمن سائنسدانوں، اور اس وقت کے لیبیا کے حکمران قذافی نے خفیہ طور پر پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے میں مدد دی تھی۔مضمون میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ قذافی نے پی آئی اے کے طیاروں کے ذریعے 50 کروڑ ڈالر کراچی پہنچائے ۔مضمون کی شروعات میں ہی کہا گیا کہ صرف چند دن قبل پاکستانی جنرل ضیاء الحق نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ملک کا ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، مگر خفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کے لیے کام تیزی سے جاری رہا پاکستان کے مددگار فیڈرل ری پبلک آف جرمنی کے سائنسدان اور لیبیا کے حکمران قذافی تھے، جو تیل سے کمائی گئی دولت پاکستان کو اس کام کے لیے فراہم کرتے رہے،مضمون میں تین جرمن اور چار پاکستانیوں، بشمول ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کی ملاقات کا بھی ذکر ہے۔رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ قذافی اور بھٹو نے اسلام آباد میں ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کے مطابق لیبیاکے فراہم کردہ فنڈز سے پاکستان ایٹم بم تیار کرے گا، جبکہ بدلے میں لیبیا کو تیار شدہ ایٹمی ہتھیار ملیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…