ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کو بے وقوف کون بنارہاہے؟’چوہدری نثار کی کھری کھری باتیں،بڑا دعویٰ کردیا 

datetime 27  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کرپشن کیخلاف نعرے لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے،فیصلے چوکوں اور چوراہوں پر نہیں عدالتوں اور پارلیمان میں ہوتے ہیں، داخلی انتشار اور خلفشار کا شکار قومیں ترقی نہیں کر سکتیں، عام پاکستانی غلط روش کیخلاف اپنی آواز بلند کرے، تلخی، محاذ آرائی، گالم گلوچ اور تشدد کو روکنا ہو گا،جھوٹ بولنے ،تلخ زبان میں بات کرنیوالے دوسروں کو شرینی کی تلقین کرتے ہیں، حکومت شاہرائیں، انٹرچینج بنا کر عوام کی زندگی میں آسانی لا رہی ہے۔

جمعہ کو سنگجانی انٹرچینج (ایم ون موٹروے) کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم ون موٹروے پر سنگجانی انٹرچینج سے نہ صرف اے ڈبلیو ٹی اور دیگر سوسائٹیوں کے مکینوں بلکہ اس علاقہ کے تمام لوگوں کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل دھرنے، محاذ آرائی، دھمکیاں، گالم گلوچ اور دیواریں کھڑا کرنا نہیں بلکہ سڑکیں، انٹرچینج بنانا اور عوام کی زندگی میں آسانی لانا اور ان کیلئے نئے راستے کھولنا ہے، نئے انٹرچینجز کھولنے سے نہ صرف ان علاقوں کے عوام کی رسائی بہتر ہو گی بلکہ ان کے ذریعے عوام اور صوبوں کے مابین رابطے استوار ہوں گے اور وہ قریب آئیں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سنگجانی انٹرچینج سیلف فنانسنگ منصوبہ ہے اور 8 ماہ کے اندر یہ مکمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت سی مشکلات میں گھرا ہوا ہے جس کا عام لوگوں بلکہ اوپر والوں کو بھی ادراک نہیں ہے، آج جن مسائل کا سامنا ہے یہ پہلے کبھی نہیں تھے لیکن اﷲ تعالیٰ کی مہربانی اور عملی جدوجہد سے ان کا مقابلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں قوم کو اتحاد و اتفاق کی طرف لے کر جانا ہے، جو قومیں داخلی انتشار اور خلفشار کا شکار ہوں وہ ترقی نہیں کر سکتیں، فیصلے چوکوں، چوراہوں میں نہیں بلکہ عدالتوں اور پارلیمان میں ہوتے ہیں، جو غلط روش چل پڑی ہے اس کے خلاف ہر پاکستانی کو آواز اٹھانی چاہئے، جب تک عام آدمی اس کے خلاف نہیں بولے گا یہ انتشار اور خلفشار جاری رہے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دھرنوں اور احتجاج سے مسائل حل نہیں ہوں گے، تمام مشکلات کے باوجود مثبت بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت اچھے لوگوں کی ہے لیکن وہ خاموش ہیں، وہ اپنی خاموشی توڑ کر اچھے کو اچھا کہیں اور برے کو برا، ہمارے ملک میں سچ دھندلا گیا ہے، کرپشن کے خلاف بات تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن عمل اس کے خلاف ہوتا ہے، کرپشن کو صاف کرنے میں کوئی سنجیدہ نہیں، یہ صرف نعرہ ہے جس کے ذریعے عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے، عوام سچ کو دھندلا نہ ہونے دیں اور اچھے اور برے کے فرق کو واضح کریں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کو ملانے کیلئے پل اور انٹرچینج بنیں گے، دلوں کو جوڑنے اور ملانے کیلئے بھی انٹرچینج بنانے کی ضرورت ہے، تلخی، محاذ آرائی، تشدد اور گالی گلوچ کو روکنا ہو گا، خود جھوٹ بولنے اور تلخ زبان میں بات کرنے والے دوسروں کو شرینی کی تلقین کرتے ہیں، قول و فعل کا یہ تضاد انسانوں کو ہی نہیں قوموں کو بھی لے بیٹھتا ہے۔ وزیر داخلہ نے قبل ازیں سنگجانی انٹرچینج کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر علاقہ کے عمائدین، عوام اور علاقہ کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے عہدیداران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…