پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

آخری وقت

datetime 20  جنوری‬‮  2017 |

ایک دفعہ حکیم ضیاء الدین سنامی رحمتہ اللہ علیہ بیمار ہو گئے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کو پتہ چلا تو آپ نے سوچا کہ وقت کے اتنے بڑے عالم ہیں اور متبع سنت ہیں اس لئے مجھے ان کی عیادت کیلئے جانا چاہئے‘ چنانچہ آپ ان کی عیادت کیلئے ان کے دروازہ پر پہنچے‘ دستک دے کر اندر پیغام بھیجاکہ میں آپ کی عیادت کیلئے آیا ہوں۔

حکیم ضیاء الدین سنامی نے جواب بھجوایا کہ میرا آخری وقت ہے معلوم نہیں کہ کس وقت میری جان نکل جائے میں اپنے آخری وقت کسی بدعتی کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا‘ اب کیسا سخت جواب تھا لیکن خواجہ نظام الدین اولیاء سمجھ رہے تھے کہ سنت کی محبت میں بات کر رہے ہیں‘ اس لئے انہوں نے فوراً جواب بھجوایا۔ ہاں بدعتی آپ کے دروازے پر آیا ہے مگر بدعت سے توبہ کرنے کیلئے آیا ہے جب یہ پیغام حکیم ضیاء الدین سنامی کو ملا تو لیٹے ہوئے فوراً اٹھ بیٹھے اور اپنا عمامہ سر سے اتارا۔ شاگرد سے کہا میرے بستر سے لے کر میرے دروازے تک اس عمامہ کو بچھا دیجئے اور حضرت سے کہے کہ اپنے جوتوں سمیت عمامہ پر چلتے ہوئے تشریف لائے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…