ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

آخری وقت

datetime 20  جنوری‬‮  2017 |

ایک دفعہ حکیم ضیاء الدین سنامی رحمتہ اللہ علیہ بیمار ہو گئے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کو پتہ چلا تو آپ نے سوچا کہ وقت کے اتنے بڑے عالم ہیں اور متبع سنت ہیں اس لئے مجھے ان کی عیادت کیلئے جانا چاہئے‘ چنانچہ آپ ان کی عیادت کیلئے ان کے دروازہ پر پہنچے‘ دستک دے کر اندر پیغام بھیجاکہ میں آپ کی عیادت کیلئے آیا ہوں۔

حکیم ضیاء الدین سنامی نے جواب بھجوایا کہ میرا آخری وقت ہے معلوم نہیں کہ کس وقت میری جان نکل جائے میں اپنے آخری وقت کسی بدعتی کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا‘ اب کیسا سخت جواب تھا لیکن خواجہ نظام الدین اولیاء سمجھ رہے تھے کہ سنت کی محبت میں بات کر رہے ہیں‘ اس لئے انہوں نے فوراً جواب بھجوایا۔ ہاں بدعتی آپ کے دروازے پر آیا ہے مگر بدعت سے توبہ کرنے کیلئے آیا ہے جب یہ پیغام حکیم ضیاء الدین سنامی کو ملا تو لیٹے ہوئے فوراً اٹھ بیٹھے اور اپنا عمامہ سر سے اتارا۔ شاگرد سے کہا میرے بستر سے لے کر میرے دروازے تک اس عمامہ کو بچھا دیجئے اور حضرت سے کہے کہ اپنے جوتوں سمیت عمامہ پر چلتے ہوئے تشریف لائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…