ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

مسیحی میاں بیوی میں طلاق نہیں ہوسکتی ؟ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت،حکومت کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 20  جنوری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کر سچین قانون طلاق کو آئین سے متصادم قرار دینے کے لئے دائر درخواست پروکلاکے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔لاہور ہائیکورٹ میں مسیحی قانون طلاق کے خلاف الیاس بھٹی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کامران مائیکل نے عدالت کوبا ئیبل کی آیت پڑھ کر سنائی اور کہا کہ الہامی قانون کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔بنیادی حقوق کے نام پرالہامی قانون میں تبدیلی مذہبی اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے بشپس کے ساتھ مل کر قانون میں موجود سقم دور کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب کی جا رہی ہیں۔صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو کے علاوہ کیتھولک،پروٹسٹنٹ چرچ سمیت دیگر چرچ کے بشپس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ بائیبل کی تعلیمات کے تحت مسیحی میاں بیوی کا رشتہ کسی صورت نہیں توڑا جا سکتا۔اقلیتی رکن پنجاب اسمبلی میری گل نے عدالت کوآگاہ کیا کہ مسیحی قانون طلاق کے نتیجے میں خواتین مذہب ترک کر کے ز ندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین میں مرد و عورت کی تخصیص کے بغیرعورتوں کوطلاق کے مساوی حقوق حاصل ہیں،مسیحی قانون طلاق واضح طور پر امتیازی قانون ہے۔چیف جسٹس منصور علی شاہ نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ عدالت مسیحی برادری بالخصوص خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہے ۔درخواست گزار کے وکیل شیراز ذکاکا کہنا تھا کہ مسیحی قانون طلاق بنیادی حقوق اور اخلاقیات کے عالمی قوانین سے متصادم ہے۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مسیحی قانون طلاق کے تحت کوئی بھی عیسائی اس وقت تک اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا جب تک اس پر بد چلنی کا الزام لگا کر اسے ثابت نہ کر دے۔انہوں نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق سے متصادم اس ایکٹ کو کالعدم قرار دے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…