ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

قومی شناختی کارڈ میں بڑی تبدیلی،حکومت نے اعلان کردیا

datetime 18  جنوری‬‮  2017 |

سلام آباد(آن لائن)عالمی سطح پر رقوم کی ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے والی معروف ٹیکنالوجی کمپنی “ماسٹر کارڈ” نے شناختی کارڈ کے ذریعے رقوم کی ادائیگی ممکن بنانے کے حوالے سے پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) ٹیکنالوجیز کے ساتھ اشتراک کا اعلان کردیاہے۔اس اقدام سے پاکستانی شہری اپنے شناختی کارڈ کے خصوصی 13 ہندسوں کو استعمال کرتے ہوئے فنانشل ٹرانسیکشنز اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی ادائیگیاں وصول کرسکیں گے۔

نادراکے مطابق شہری اپنے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے اندورن اور بیرون ملک رقوم بھیج اور وصول بھی کرسکیں گے اور یہ سروس شروع ہونے کے بعد انہیں منی ٹرانسفر کے لیے بینک یا کرنسی ایکسچینج جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔معاہدے کے ضوابط کے مطابق ماسٹر کارڈ، نادرا ٹیکنالوجیز کی زیر نگرانی جاری ہونے والے قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر دستاویز کی فیس کی آن لائن ادائیگی کے لیے اپنے نیکسٹ جنریشن پیمنٹ ٹیکنالوجیز کو بھی بروئے کار لائے گا۔اس بات کا اعلان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری سالانہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں کیا گیا، یہ فورم 17 سے 20 جنوری تک جاری رہے گا۔ماسٹر کارڈ کے کنٹری منیجر برائے پاکستان و افغانستان اورنگزیب خان نے بتایا کہ نادرا ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہمارا اشتراک ہمارے اس عزم کا ثبوت ہے کہ ہم پاکستان میں محفوظ اور قابل بھروسہ آن لائن ادائیگی کا نظام قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نئی سروس لانچ ہونے سے بیرون ملک سے ترسیلات زر بھیجنے اور وصول کرنے والوں کو بہت زیادہ آسانی ہوجائے گی اور یہ پاکستانیوں کے لیے بہت فائدہ مند ہوگا کیوں کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں ترسیلات زر کا حجم بہت زیادہ ہے۔اورنگزیب خان نے بتایا کہ قومی شناختی کارڈ میں رقوم کی ادائیگی کے فیچرز شامل کرنے کے بعد یہ فنانشل ٹرانسیکشن کے لیے ایک اہم اور کثیر المقاصد ذریعہ بن جائے گا جس کے ذریعے تیز ترین اور موثر انتقال زر ممکن ہوسکے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…