بدھ‬‮ ، 28 جنوری‬‮ 2026 

طیبہ تشدد کیس ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم جاری کرد یا

datetime 6  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس کو طیبہ تشدد کیس کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے 3 روزمیں رپورٹ طلب کرلی جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ چاہتے ہیں کہ بچی کا جلد طبی معائنہ کرایا جائے تا کہ ثبوت ضائع نہ ہوں اور پولیس صرف سچ کوسامنے لائے ٗاگر والدین اپنے بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو عدالت ان کی محافظ بنے گی۔
جمعہ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ نے ایڈیشنل سیشن جج کے گھر ملازمہ پرتشدد کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔عدالت میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ خرم علی خان کی اہلیہ کو بھی پیش کیا گیا۔ عدالت نے ڈی آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی جائے اور3 روزمیں رپورٹ پیش کی جائے جس پرپولیس کی جانب سے رپورٹ کی تیاری کیلئے 2 ہفتوں کی مہلت کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم چاہتے ہیں کہ بچی کا جلد طبی معائنہ کرایا جائے تا کہ ثبوت ضائع نہ ہوں اور پولیس صرف سچ کوسامنے لائے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ بنیادی انسانی حقوق کے معاملات پرراضی نامے نہیں ہو سکتے ٗ والدین بھی بچوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتے پھر یہ راضی نامہ کیسے ہوگیا۔عدالت کے روبروطیبہ کی والدہ نے موقف اختیار کیا کہ وہ فیصل آباد کی رہائشی ہے اور طیبہ اس کی بیٹی ہے جو 2014 میں لاپتہ ہوگئی تھی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بچی آپ کی ہے یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا، جس پر کوثر بی بی نے کہا کہ اس نے میڈیا پر بچی کی تصاویردیکھی تھیں اس سے انہیں پتہ چلا کہ یہ بچی اس کی لاپتہ بیٹی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بچی کے والدین ہونے کے دعویداروں کے ٹیسٹ کروائے جائیں، اس کے علاوہ میڈیا پر چلنے والی تصاویرکا بھی فورنزک ٹیسٹ کروایا جائے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگر والدین اپنے بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو عدالت ان کی محافظ بنے گی ۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے بچی اوراسسٹنٹ کمشنرپوٹھوہارکو ہرصورت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…