ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

بینظیر بھٹو کے قتل سے کس کو فائدہ ہوا ؟پرویزمشرف کے انکشافات،نیاتنازعہ کھڑا کردیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2016 |

دبئی(آئی این پی)آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین اورسابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے کسی سے بات نہیں کی تھی ، میرا خیال تھا کہ اچانک ای سی ایل سے نام نکالنے کے پیچھے شاید فوج کا ہاتھ ہے ، عدالتوں میں پیش ہونے سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، بینظیر بھٹو کومکمل سیکیورٹی دی تھی، ان کے قتل سے کس کو فائدہ ہوا یہ دیکھنا ہوگا، کیسز زیادہ تر سیاسی ہیں انہیں ختم ہوجانا چاہیے نیشنل ایکشن پلان ایک صحیح قانون ہے مگر نافذ نہیں ہورہا ، ملک کے دیگر حصوں کی طرح پنجاب میں بھی کاروائی ہونی چاہیے۔

جمعہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے کسی سے بات نہیں کی نہ کسی سے پوچھا اور نہ کسی نے مجھ سے پوچھا ، میرا خیال تھا کہ اچانک ای سی ایل سے نام نکالنے کے پیچھے آرمی کا ہاتھ ہے ، سب کو پتا ہے کہ حقیقت کیا ہے ،دوسرے لوگ منافقت کرتے ہیں جبکہ میں بول دیتا ہوں ، نہ میں نے کسی سیکہا اور نہ کسی نے مجھ سے پوچھا ، نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے کسی سے بات نہیں کی تھی۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2014میں نام ای سی ایل سے ہٹانے کا آرڈر پاس کیا تھاجسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ،انہوں نے بھی پاس کر دیا ، مجھے2014میں جانے دیا جانا چاہیے تھا لیکن نہیں جانے دیا گیا ، 10سے15دن پہلے امریکہ کے علاج کے بعد واپس آیا ہوں

۔پرویز مشرف نے کہا کہ عدالتوں میں پیش ہونے سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، میں پہلے بھی عدالتوں میں گیا ہوں ،دوبارہ پیش ہوجاؤں گا ، کیسز زیادہ تر سیاسی ہیں انہیں ختم ہونا چاہیے ، قتل سے کس کو فائدہ ہوا تحقیقات میں یہ دیکھا جاتا ہے ، بینظیر کے قتل سے کس کو فائدہ ہوا یہ دیکھنا ہوگا۔ بینظیر بھٹو جلسے کے بعد بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھی تھیں ، بے نظیر بھٹو کا بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھنا سیکیورٹی نہیں تو کیا ہے ۔

سابق صدر نے کہا کہ پاکستان میں قانون بنانے کا مسئلہ نہیں بلکہ نافذ کرنے کا مسئلہ ہوتا ہے ، نیشنل ایکشن پلان ایک صحیح قانون ہے مگر نافذ نہیں ہورہا ، ملک کے دیگر حصوں کی طرح پنجاب میں بھی کاروائی ہونی چاہیے ، پاکستان میں سیاسی جماعتیں اپنا اعتبار کھوچکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم بین الاقوامی طور پر پاپولر تھے ، میرے زمانے میں ہندوستان سے بھی تعلقات اچھے تھے ،ہم مسائل کو حل کرنے جا رہے تھے ، ماضی کے سارے فیصلے درست تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…