ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

بالاخرجہانگیر ترین کو کامیابی مل گئی،عدالت نے حکم جاری کردیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور(آئی این پی) لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کی شوگر مل کو 42 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ٹیکس ریکوری کیلئے بھجوایا گیا نوٹس غیر قانونی قرار دیکر کالعدم کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے جہانگیر ترین کی شوگر مل جے ڈبلیو ڈی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا،

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمشنر لاہور کو ملتان کی شوگر مل کو ٹیکس ریکوری کے نوٹسز بھجوانے کا اختیار نہیں ہے، ایف بی آر کے متعلقہ ریجن یا سرکل کا کمشنر ہی ملتان میں واقع جے ڈبلیو ڈی شوگر ملز کو ٹیکس ریکوری کے نوٹسز جاری کر سکتا تھا۔شوگر ملز انتظامیہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایف بی آر نے لیگی حکومت کے دباؤ پر جہانگیر ترین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا ہے اور انکی شوگر ملز کو سال 2011 کے ٹیکس سال کا ساڑھے بیالیس کروڑ روپے کا ٹیکس ریکوری کا نوٹس بھجوایا ہے جبکہ اس سال کے تمام ٹیکس ادا ہو چکے ہیں

عدالت میں ایف بی آر کے وکیل کا کہنا تھا کہ قانون میں ترمیم ہو چکی ہے، اس لئے کمشنر ٹیکس ریکوری کے نوٹسز بھجوا سکتا ہے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جسے جاری کرتے ہوئے ٹیکس ریکوری کے نوٹس کالعدم کر دیئے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…