پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

بازیاب کرانے میں کس نے مدد کی؟والد کے قتل کے بعد کس نے سب سے پہلے رابطہ کیا؟شہبازتاثیر کے انکشافات

datetime 28  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کا کہنا ہے کہ اغوا ء کے تجربے نے انہیں بہت زیادہ مضبوط کردیا،انہوں نے کہا کہ کوئی سیکیورٹی یا انٹیلی جنس ایجنسی انہیں بازیاب کرانے کے لیے نہیں آئی اور یہ اللہ کی مہربانی تھی کہ وہ وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنی کہانی خود بیان کرنے کا موقع مل رہا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز تاثیر نے بتایا کہ اپنی کہانی لکھنا بہت مشکل کام ہے، اس میں ایک سال لگ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی کہانی لکھنا ایک چیلنج ہے، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے داد شاعر تھے اور میرے والد مصنف تھے۔قید میں گزارے گئے ایام کے حوالے سے شہباز تاثیر نے کہا کہ ہردن میرے لیے ایک چیلنج تھا، جب میں ان دنوں کو یاد کرتا ہوں تو مجھے کوئی دردناک بات نظر نہیں آتی، میں اسے ایک تجربے کے طور پر دیکھتا ہوں جس نے مجھے مضبوط کیا۔شہباز تاثیر نے کہا کہ میرے والد کے قتل کے بعد بلاول واحد شخص تھے جنہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ آج یہاں بیٹھ کر آپ سے بات کررہا ہوں، اپنے تجربات شیئر کررہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری کہانی بقائے وجود کی کہانی ہے، یہ کہانی امید کی ہے، ناامید ہونا میرے لیے کوئی آپشن نہیں تھا۔شہباز تاثیر نے کہا کہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کی اہمیت کا اندازہ ہمیں عام طور پر نہیں ہوتا، مجھے خوشی ہے کہ مجھے دوبارہ آزادی ملی۔انہوں نے کہا کہ جب میں ساڑھے چار برس تک قید میں تھا تو وہاں میں نے کسی سے بات بھی نہیں کی، میں اپنی کہانی کبھی کسی کو نہیں بتاسکتا تھا۔شہباز تاثیر نے بتایا کہ جس علاقے میں وہ قید تھے وہاں موجود القاعدہ کے ایک سینئر رہنما پر ڈرون حملہ ہوا، ان کا کمرہ اس گھر کے برابر میں تھا اور اس حملے وہ خود بھی زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرستان کے علاقے میر علی میں جہاں مجھے رکھا گیا تھا، اغوا کاروں کے لیے مجھے چھپانا بہت مشکل ہورہا تھا کیونکہ لوگوں میں یہ بات مشہور تھی کہ گورنر سلمان تاثیر کا بیٹا ازبکوں کے پاس ہے۔شہباز تاثیر نے بتایا کہ جس آدمی نے مجھے اغوا ء کیا تھا اس نے مجھے اپنے گھر میں چھپایا ہوا تھا۔شہباز تاثیر نے قید کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بھی سنایا، انہوں نے بتایا کہ جس شخص نے مجھے اپنے گھر میں قید رکھا ہوا تھا اس کا ایک سے ڈیڑھ سال کا بچہ بھی تھا۔وہ بچہ اچانک کھیلتا ہوا اس کمرے میں آگیا جہاں مجھے قید رکھا گیا تھا اور اس نے کچھ ایسی حرکتیں کیں کہ میری ہنسی نکل گئی۔شہباز تاثیر نے بتایا کہ بعد ازاں جب مجھے دوبارہ باندھ کر کمرہ بند کردیا گیا تو میں نے سوچا کہ میں کتنے دنوں بعد ہنسا ہوں، میں تو اصل میں بھول ہی گیا تھا کہ میں ہنس بھی سکتا ہوں۔واضح رہے کہ اپنے والد سلمان تاثیر کے قتل کے بعد شہباز تاثیر کو 25 اگست 2011 کو لاہور سے اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے اس وقت اغوا کرلیا تھا جب وہ دفتر جارہے تھے۔ساڑھے چار سال تک قید میں رہنے کے بعد شہباز تاثیر کو رواں برس مارچ میں بازیاب کرالیا گیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…