جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

تحریک انصاف اورعوامی تحریک کے دھرنے اورفوج ۔۔۔وزیردفاع کےاہم انکشافات

datetime 20  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ2014ء کے دھرنوں میں فوج کا ادارہ شامل نہیں تھا ٗ 2013ء میں جس طرح کے حالات تھے سب کو معلوم ہے، دہشت گردی کے واقعات میں کمی اور ملک میں امن وا مان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ امن وامان کی بحالی میں فوج کاکرداراہم رہاہے ۔

منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اور سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان تعلقات مثالی تھے ٗاگر کسی مسئلہ پر کوئی اختلاف ہوتا تو میڈیا اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا اور مبالغہ آرائی سے کام لیتا تھا جبکہ اس حوالے سے میڈیا کے کچھ لوگوں نے آندھی و طوفان برپا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب جنرل راحیل 29 نومبر کو رخصت ہوئے اور جس انداز سے انہیں رخصت کیا گیا اس سے میڈیا کی قیاس آرائیاں بھی وہیں ختم ہو گئیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں سول ملٹری تعلقات مثالی تھے ان میں کوئی ان بیلنس نہیں تھا، 2014ء کے دھرنوں میں فوج کا ادارہ شامل نہیں تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 2013ء میں جس طرح کے حالات تھے سب کو معلوم ہے، اب دہشت گردی کے واقعات میں کمی اور ملک میں امن وا مان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر ابھی منزل پر نہیں پہنچے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گذشتہ چار سالوں میں حکومت کو درپیش چیلنجز سے نکل آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے وزیر داخلہ کا موقف سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ سے قبل سننا چاہئے تھا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…