جمعہ‬‮ ، 10 جولائی‬‮ 2026 

خیبرایجنسی ،جمرود سے 30ہزار سال پرانی حیرت انگیز دریافت،ماہرین آثارقدیمہ آثار قدیمہ ششدر

datetime 8  دسمبر‬‮  2016 |

پشاور(این این آئی)محکمہ آرکیالوجی خیبرپختونخوا اور پولیٹیکل انتظامیہ خیبرایجنسی نے فاٹا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا آرکیالوجیکل سروے مکمل کرلیا جس میں 30ہزار سال پرانے آثار قدیمہ اور اسکے علاوہ جمرود میں 110 آثارقدیمہ کی سائٹس دریافت ہوئی جن میں 8بدھ مت کی سائٹس بھی شامل ہیں، تاریخی ورثہ کی تلاش کا کام ڈائریکٹریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم خیبرپختونخوا کے ٹیکنیکل سٹاف کی نگرانی ، پولیٹیکل انتظامیہ خیبرایجنسی اور پاک فوج کے باہمی تعاون سے ہوا ،ان خیالات کا اظہار پولیٹیکل ایجنٹ خیبرایجنسی کیپٹن خالد محمود اور ڈائریکٹر آرکیالوجی خیبرپختونخوا ڈاکٹر عبدالصمد نے پولیٹیکل ایجنٹ آفس پشاور کینٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، پی اے کیپٹن خالد محمود نے کہاکہ خیبرایجنسی انتظامیہ کے زیراہتمام اور ڈائریکٹریٹ آف آرکیالوجی خیبرپختونخوا کے تکنیکی تعاون سے فاٹا میں صرف خیبرایجنسی کی تحصیل جمرود میں اپنی نوعیت کا پہلا آرکیالوجیکل سروے اڑھائی ماہ میں مکمل کیا گیا

جس میں 30 ہزار سال پرانی 110 آثار قدیمہ کی سائٹس دریافت ہوئی جن میں پتھروں کی سنگ تراشی، پتھروں پر پینٹنگ، مساجد، فورٹس، امیرتیمور کے وقت کا جیل خانہ، پھانسی خانہ، ٹنل اور دیگر آثارقدیمہ کی سائٹس موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ فاٹا کی تاریخ میں یہ پہلا سروے تھا جبکہ اس سے قبل انگریز دور حکومت میں بھی ان علاقوں میں سروے کیا گیا تاہم وہ کامیابی حاصل نہ کرسکے ، ابھی اس سروے میں ہمیں زیادہ کھودائی نہیں کی گئی اس کے باوجود ہمیں 30 ہزار سال پرانے آثار ملے یہ پاکستان کی سطح کی کامیابی ہے کیونکہ اس سے سوشل ، معاشی اور سیاحتی ترقی مستقبل میں ہوسکتی ہے اس کے بعد تحصیل لنڈی کوتل، تیراہ، باڑہ اور دیگر مقامات پر سروے کا آغاز کیا جائے گا سروے کے بعد ان جگہوں کو آباد کرنے سے یہاں پر سیاحت کو فروغ ملے گا

انہوں نے کہاکہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ فاٹا سیکرٹریٹ میں آرکیالوجی کا مکمل ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جائے اور فاٹا میں موجود تمام آثارقدیمہ کی دریافت کرنے سمیت اس کا تحفظ یقینی ہو سکے،انہوں نے کہاکہ پاک فوج کے مشکور ہیں جن کی مدد اور تعاون سے سروے مکمل ہو سکا ،ڈاکٹر عبدالصمد نے کہاکہ فاٹامیں انتظامی حالات اور دہشت گردی کے باعث سروے پہلے نہ ہو سکے تاہم حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور ہماری کوشش ہے کہ فاٹا کے جن علاقوں میں بدھ مت اور دیگر قدیمہ آثارقدیمہ کے آثار پائے جاتے ہیں اس کا سروے پولیٹیکل انتظامیہ کے تعاون سے مکمل کیا جائے اور خیبرپختونخوا کی طرح ان علاقوں میں بھی میوزیم تعمیر کئے جائیں تاکہ سیاح آنے والے دور میں ان علاقوں کا رخ کریں،سروے میں محکمہ آرکیالوجی کی ٹیکنیکل ٹیم کے چار افراد تھے تاہم سارا سپورٹ ہمیں پولیٹیکل خیبرایجنسی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا ، مستقبل میں بھی اگر کسی قسم کی مدد کی ضرورت پڑی تو محکمہ آرکیالوجی آثارقدیمہ کی دریافت کیلئے مکمل سپورٹ فراہم کریگا۔



کالم



وراثت


بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…