ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

جنید جمشید کے ہمراہ ان کی دوسری اہلیہ جہازپر سوارتھیں

datetime 7  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)جنید جمشید کے ساتھ ان کی دوسری اہلیہ نہایہ جنید سوارتھیں، ان کا تعلق لاہور سے تھا جبکہ ان کی پہلی اہلیہ عائشہ جنید کراچی میں خیریت سے ہیں۔حادثے کے مقام پر طیارے کے ملبے سے اکیس افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، آئی ایس پی آر کا بیان، تفصیلات کے مطابقآئی ایس پی آر نے چترال سے آنے والے طیارہ حادثے کے بارے میں تفصیلات جاری کردی ہیں ، بتایاگیا ہے کہ حادثے کا شکار طیارے کے ملبے سے اکیس افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

چترا ل سے اسلام آباد آنے والا پی آئی اے کا طیارہ ایبٹ آباد میں حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیاجس میں عملے کے 5افراد سمیت 45افراد سوار تھے،فضائی حادثے کے نتیجے میں ہلاکتوں کا خدشہ ، ۔بدھ کوترجمان سول ایو ی ایشن ڈویژن شیر علی کے مطابق پی آئی اے کا اے ٹی آر 42 پرواز نمبر661 ،3:50 پرچترال سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوا جبکہ طیارے کا شام4:40ریڈار سے رابطہ منقطع ہوا،پائلٹ نے کنٹرول روم کو فنی خرابی کی اطلاع دی،پرواز پی کے 661کیپٹن خالد جنجوعہ تھے،عملے میں فرسٹ افسرعلی اکرم،ٹرینی پائلٹ احمد جنجوعہ تھے،ائیرہوسٹس صدف فاروق اور ہوسٹس اسماء عادل بھی عملے میں شامل ہیں۔حویلیاں سے 10کلومیٹر دور گاؤں میں طیارہ پہاڑ ی سے ٹکرانے کے بعد کھائی میں گرا،گرنے کے فوراً بعد طیارے میں آگ لگ گئی،حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں سوار مسافروں کے نام قیصر عابد،احترام اللہ،عائشہ،علی اکبر،محمود اختر،شوکت عامر،آمنہ احمد،محمد عتیق،فرح ناز،فرحت عزیز،علی حسن،جنید خان،عاطف محمود،گل مرزا،علی محمد،خان محمد،عرش تیمور،عمارہ خان،زاہد ہ پروین شامل ہیں۔حادثے کے شکار طیارے میں جنید جمشیدبھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ سوا تھے ۔

معروف شخصیت جنید جمشید تبلیغ کے سلسلے میں چترال گئے ہوئے تھے،جبکہ ڈی سی چترال اسامہ وڑائچ بھی طیارے میں سوار تھے۔طیارے میں سوار عملے کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔پی آئی اے نے فوری طور پر ایمرجنسی سنٹر قائم کردیا ہے۔ریسکیو آپریشن کیلئے پاک فوج کے دستے اور ہیلی کاپٹر بھی فوری طور پر پہنچ گئے ۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے متعلقہ افراد کو فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ فوری طور پر ریسکیوریلیف آپریشن شروع کیا جائے۔وزارت داخلہ کے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کردیا گیا۔وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ہدایت کی کہ وفاقی ادارے صوبائی حکومت اور انتظامیہ کو مدد فراہم کریں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…