ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

بنی گالہ کا گھر کیسے خریدا ؟ عمران خان اصل کہانی منظر عام پر لے آئے، جواب داخل

datetime 5  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)چیف الیکشن کمیشن سردار رضا محمد خان نے کہا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق ریفرنسز کا فیصلہ 15 دسمبر کو سنایا جائے گا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کروا دیاجس میں تمام الزامات کو مسترد کرتے ہو ئے کہا ہے کہ بنی گالہ میں گھر کا 2002 میں 4 کروڑ 35 لاکھ میں خریداری کا معاہدہ کیا اور رقم اقساط میں ادا کرنے کا طے ہوا۔
الیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی،اس موقع پر (ن) لیگی رہنما محمد خان ڈاہا کے وکیل نے کہاکہ جہانگیر ترین کے کاغذات نامزدگی اور ایف بی آر میں زرعی آمدن کی تفصیلات میں تضاد ہے، ایف بی آر میں جمع کرایا گیا ریکارڈ منگوایا جائے۔
جس پر چیف الیکشن کمشنرنے استفسار کیا کہ آپ نے اسپیکر کے پاس ریفرنس دائر کرتے وقت ریکارڈ کیوں نہیں لگایا، بغیر ریکارڈ ریفرنس کیسے دائر کر دیا گیا رکن الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ اسپیکر نے بغیر ریکارڈ دیکھے کیسے ریفرنس آگے بھیجا۔جہانگیر ترین کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ زرعی آمدنی سے متعلق الزام دو سال پرانا اور بے بنیاد ہے ۔
الزام کو ایف بی آر کا ان لینڈ ریونیو ٹربیونل پہلے ہی مسترد کرچکا ہے، ان سائیڈ ٹریڈنگ کے الزامات ضمنی انتخاب سے سات سال قبل کے ہیں، ریفرنس سیاسی وجوہات پر دائر کیا گیا لہذا زبانی درخواست پر آرٹیکل 63 اے کیسے لاگو کیا جاسکتا ہے، اسپیکر نے ضابطہ سے ہٹ کر اپنے اختیارات استعمال کیے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کمیشن میں جواب جمع کروا دیا، جس میں تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنی گالہ میں گھر کا 2002 میں 4 کروڑ 35 لاکھ میں خریداری کا معاہدہ کیا اور رقم اقساط میں ادا کرنے کا طے ہوا جبکہ ابتدائی طور پر 65 لاکھ روپے ادا کیے گئے اور بقایا رقم لندن کا فلیٹ بیچ کر ادا کرنا تھی تاہم لندن فلیٹ کی فروخت میں تاخیر سے معاہدہ ختم ہونے کا خدشہ تھا جس پر جمائمہ خان نے بنی گالہ گھر کیلئے ادھار رقم دی، لندن فلیٹ کی فروخت سے حاصل رقم سے جمائمہ خان کو قرض ادا کیا جب کہ بنی گالہ گھر کیلئے جمائمہ خان نے رقم قانونی طریقے سے پاکستان منتقل کی۔
عمران خان کا جواب میں کہنا تھا کہ اسپیکر کے ریفرنس میں لگائے گئے ٹیکس چوری اور آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنے سے متعلق الزامات بھی بے بنیاد ہیں، نیازی سروسز لمیٹڈ کا واحد اثاثہ لندن فلیٹ تھا جو 2003 میں بیچ دیا، بعد ازاں نیازی سروسز لمیٹڈ کا وجود صرف کاغذوں کی حد تک ہے لہذا آف شور کمپنی میں میرا کوئی شیئر نہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…