جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

حکمران خاندان کو پتہ ہی نہیں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، ہم جو چاہ رہے تھے وہ تو ہو گیا،عمران خان کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہو ر(این این آئی )پا کستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پانامہ کیس سپریم کورٹ میں جانے کے بعد اب احتساب بل کی کوئی اہمیت نہیں ، میں آج بھی اس موقف پر قائم ہو ں کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے ہرگز کمیشن نہیں بننا چاہیے ، اکیلے ہم ہی نہیں دنیا کے اور بہت سے ممالک کے لو گ سڑکوں پر ہیں اور یہ غیر جمہوری طریقہ نہیں ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے پا رلیمنٹ میں جاکر وقت ضائع کیا ہے۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کام نہیں کر رہی ، جب پا رلیمنٹ کام نہ کر ے تو پھر سڑکوں پر آنے کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہوتا ،

پیپلز پارٹی اندر سے وزیراعظم کے ساتھ ملی ہوئی ہے صرف اوپر سے شور مچا رہی ہے ، اگر ہم نے حکومت سے سمجھوتہ کر لیا او رپارلیمنٹ میں چلے گئے تو لو گ پانامہ لیکس کو بھو ل جائیں گے ، پھر ہم بھی ڈبل شاہ بن جائیں گے ، اگر پی ٹی آئی سڑکوں پر نہ نکلتی تو آج پانامہ لیکس کا ایشو ختم ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ادارے مضبو ط ہو تے تو مجھے وزیر اعظم کے خلاف سپریم کو رٹ نہ جانا پڑتا ، پانامہ لیکس کی صورت میں درحقیقت عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہوں کیونکہ کرپشن کا خاتمہ ہو گا تو پھر ہی حکومت پیسہ غریب عوام پر خرچ کرنا شرو ع کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک شخص کو بچانے کیلئے پو رے ملک کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے ۔

پیپلز پا رٹی کا احتسا ب بل وزیر اعظم کو پانامہ لیکس سے بچانے کیلئے ہے،سپریم کو رٹ کو چاہیے کہ جلد فیصلہ کر ے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران خاندان کو پتہ نہیں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ ہم جو چاہ رہے تھے وہ تو ہو گیا ہے ،نو از شریف نے اپنے تمام اثاثے تسلیم کر لیے ہیں،نواز شریف ثبوت دیدیتے تو 2نومبر والے حالات پیدا نہ ہوتے۔انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے اپنے لئے یوٹرن کے الفاظ استعمال کرنے پر کہا کہ دھاندلی کے خلاف ہمارے دھرنے پرجو ڈیشل کمیشن بن گیا تو پھر یو ٹرن کیسے ہو گیا ۔ اگر پیٹرول پر مولانا صاحب کی تصویر لگا دی جائے تو لو گ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ ڈیزل یہاں سے مل رہا ہے۔ پا نامہ لیکس کیس کا جو نتیجہ آئے گا پھر ( ن) لیگ کو پتہ چلے گا کہ ان کے ساتھ ہو کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوسے سے کہتا ہوں کہ کسی جماعت میں اتنی جمہوریت نہیں ہو گی جتنی تحریک انصا ف میں ہے ،ہما ر اکوئی فیصلہ باہمی مشاورت کے بغیر نہیں ہو تا ، جیسا لیڈر ہوتا ہے ویسے ہی اس کے مشیر ہوتے ہیں ، جیسا میں خود ہوں ویسے ہی میرے مشورہ دینے والے ہیں ، بعض اوقات ایسا ہو جا تا ہے کہ میری رائے پا رٹی سے الگ ہوتی ہے ، عہدے صرف میرٹ پر دیتا ہوں ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…