ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

صبح صبح پڑھیں خوشی کی خبر

datetime 1  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی ) وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت چار گھنٹے طویل اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانے اور عوام کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیر اعلی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ساہیوال کے دورہ کے دوران سامنے آنے والے ایشوز پر بھی غور کیا گیا۔وزیر اعلی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ساہیوال میں مریضوں کے لئے سی ٹی سکین کی سہولت مفت کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ عوام کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی میرا مشن ہے جسے ہر صورت پورا کروں گا۔ ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے زیروٹالرنس کی پالیسی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ وزراء اور سیکرٹری صاحبان ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کیلئے کئے گئے فیصلوں کے ذمہ دار ہوں گے اور وہ شعبہ صحت میں اصلاحاتی پروگرام کی ذاتی طور پر مانیٹرنگ کریں گے ۔ تعلیم، زراعت اور دیگر شعبوں کی بہتری کیلئے بھی یہی پالیسی لاگو ہو گی۔جو اچھا کام کرے گا اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں گے جبکہ نتائج نہ دینے والے عہدوں پر نہیں رہیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر ہر ہفتے ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لوں گا ۔محکموں کو اب کام کر کے دکھانا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز میرے دورے کے دوران غریب مریضوں نے پیسے لیکر سی ٹی سکین کی سہولت حاصل کرنے کی شکایت کی جو افسوسناک امر ہے ۔ وزیر اعلی نے ڈی سی او ساہیوال کے ہسپتال کے باقاعدہ دورے نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی سی او کی سخت سرزنش کی اور کہا کہ ڈویژنل کمشنر ز اور ڈی سی اوز سرکاری ہسپتالوں کے باقاعدگی سے دورے کرنے کے پابند ہوں گے۔ جو انتظامی افسر ہسپتالوں کے دورے نہیں کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہو گی ۔ وزیر اعلی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ساہیوال کے تعمیر و مرمت کے کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو احساس ذمہ داری کے تحت فرائض سرانجام دینا ہو ں گے۔ انہوں نے کہا کہ غریب مریضوں کو معیاری طبی سہولتیں مہیا کرنے کیلئے آخری حد تک جاؤں گا۔وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ جعلی ادویات کے مکروہ کاروبار کے خاتمے کیلئے بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے۔ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ضروری ہے ۔
جعلی ادویات کے مکروہ کاروبار کی نشاندہی کرنے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں گے ۔صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق ، خواجہ عمران نذیر ، مشیر ڈاکٹر عمر سیف ، چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان ، طبی ماہرین اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ کمشنر ساہیوال ، ڈی سی او ساہیوال ، پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج ، ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال ساہیوال ، کمشنر راولپنڈی، سی پی او راولپنڈی ، ڈی سی او راولپنڈی ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ، ڈی سی او شیخوپورہ، ڈی پی او شیخوپورہ اور متعلقہ حکام کی ویڈیولنک کے ذریعے اپنے اپنے دفاتر سے اجلاس میں شریک ہوئے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…