پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

نئے آرمی چیف کی ذات کیا ہے ؟ سابق وزیر اعظم کا بیان پڑھ کر آپ بھی خوشی سے جھوم اٹھیں گے

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی کوئی ذات برادری نہیں ہوتی، ان کی ذات پاکستان اور برادری افواج پاکستان ہیں، پاکستان درست سمت میں نہیں چل رہا، اللہ کرے یہ صحیح سمت چلے، جہانگیر بدر منجھے و سلجھے ہوئے سیاستدان اور ملک و قوم کا سرمایہ تھے۔ وہ ان کی رہائش گاہ پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر طارق بشیر چیمہ ایم این اے، ایس ایم ظفر، سالک حسین اور علی بدر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سب کی سپریم کورٹ پر نظریں ہیں اس کا فیصلہ سب کو قبول ہو گا، قطری شہزادہ پاکستان نہیں آئے گا اگر آیا تو گواہی دینے کیلئے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت پیپلزپارٹی کے پاس محترمہ بینظیر بھٹو کا متبادل ہے۔
اس سوال پر کہ نئے آرمی چیف کا تعلق آپ کی جاٹ برادری سے ہے تو انہوںنے کہا کہ آرمی چیف کیلئے ایسی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں، ان کیلئے سب کچھ پاکستان اور پاکستانی افواج ہیں۔ انہوں نے جہانگیر بدر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ الگ جماعت ہونے کے باوجود میرا نہایت احترام کرتے اور میٹنگز میں مجھے آگے رکھتے تھے، دورئہ افغانستان میں وہ ہمارے ہم سفر تھے، ہمارے گہرے دوستانہ تعلقات تھے، ان کی علم و عبد سے وابستگی تھی، صوفیائے کرام کا بہت علم تھا، بلھے شاہ کا کلام سناتے اور مطلب و مفہوم سے بھی آگاہ کرتے، وہ بینظیر بھٹو کے نہایت قریب اور قابل اعتماد ساتھی تھے اور پنجاب میں پیپلزپارٹی کی پہچان بھی تھے۔ جہانگیر بدر کے صاحبزادے علی بدر نے چودھری شجاعت حسین سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد اکثر کہتے تھے کہ بینظیر بھٹو کے علاوہ اگر میں کسی کو سیاستدان مانتا ہوں تو وہ چودھری شجاعت حسین ہیں جو ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملکی مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…