ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں ترک اساتذہ کے آنسو رنگ لے آئے… بڑی خوشخبری سنا دی گئی

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ترک صدر رجب طیب اردگان کی پاکستان آمد پر پاک ترک سکولوں سے منسلک ترک مرد و خواتین اساتذہ کو پاکستان سے نکل جانے کا حکم دیا تھا تاہم اب تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے پاک ترک سکولز کے اساتذہ کی ملک بدری کو روک دیا ۔عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومتی فیصلے سے سکولوں میں زیر تعلیم 11ہزار بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے لہذٰا عدالت حکومت کو اس فیصلے پر عملدرآمد سے روکے ۔درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ حکومت نے پاک، ترک سکولوں کے اساتذہ کو ملک بدری کا حکم دے دیا تھاساتذہ وطن واپس لوٹ جائیں گے۔ کوئٹہ میں موجود ان سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین نے اساتذہ کے اعزاز میں الوداعی پارٹی کا اہتمام بھی کیا اور والدین نے تو ان اساتذہ کو اپنی گاڑیاں زیادہ سے زیادہ قیمت پر اسے بیچنے کی سہولت بھی فراہم کر دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اس کے پاس 45 سے 50 ہزار ڈالرز موجود ہیں، ترک اساتذہ اپنی گاڑیاں اسے مہنگے داموں فروخت کریں تاکہ وہ موقع پرستوں سے بچ جائیں۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں والدین نے ترک اساتذہ کے اعزاز میں الوداعی پارٹی دی۔ ایک شخص جو ان اساتذہ کی مدد کرنا چاہتا ہے، نے کہا ہے کہ اس کے پاس 45 سے 50 ہزار ڈالرز ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک اور والدین نے اپنے تمام زیورات ان اساتذہ کو تحفے میں دیدئے۔ ترک اساتذہ پاکستانیوں کی رحم دلی اور محبت دیکھ کر اپنے آنسو نہ روک پائے لیکن یہ آنسو خوشی کے تھے جو ان کے چہروں سے جھلک رہی تھی۔ ایک ترک استاد تو پاکستانیوں کے پیار نچھاور کئے جانے پر خوشی سے بے ہوش ہی ہو گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…