جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

یہ ایک بات چاروں سینئر جرنیلوں میں مشترک ہے نئے متوقع آرمی چیف کے بارے میں حیران کن انکشاف

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کے علاوہ پشاور، لاہور، کوئٹہ اور کراچی میں سیاسی حلقوں بالخصوصی ریٹائرڈ آرمی افسروں کے مابین یہ بحث جاری رہی کہ موجودہ آرمی چیف کا جانا تو لازمی امر نظر آتا ہے لیکن ان کا جانشین کون ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

سوشل میڈیا پر مختلف گروپوں میں یہ مباحثہ بہت دلچسپی سے پڑھا گیا اور اس اتفاق کو بڑی دلچسپی سے زیر بحث لایا گیا کہ نئے آرمی چیف کیلئے موزوں چاروں نام یعنی زبیر محمود حیات ، اشفاق ندیم، جاوید اقبال رمدے، قمر جاوید باجوہ غرض سبھی کا تعلق ایک ہی بیج سے ہے اور سروس کے اعتبار سے یہ بیج میٹ ہیں۔ اس ضمن میں اگرچہ دو روز سے ملتان کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کا نام سب سے زیادہ زیر بحث آ رہا ہے لیکن اتوار کو دن بھر سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری کہ اعلٰی ترین خوبیوں کے باوجود لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کا تعلق چکوال سے بتایا جاتا ہے

اور یہ تاریخ کا اتفاق ہے کہ چکوال سے کوئی جنرل آرمی چیف نہ بنا اور اکثر لوگ بنتے بنتے رہ گئے۔ جن میں جنرل عبدالحمید ملک کا نام سر فہرست ہے۔ جنرل اشفاق ندیم کا تعلق قریشی خاندان سے ہے اور ان کا سروس ریکارڈ سب سے بہتر بتایا جاتا ہے۔ پاکستان نیوز نیٹ ورک کو دستیاب معلومات کے مطابق جنرل جاوید حیات رمدے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہنے والے آرائیں خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو بعد ازاں لاہور منتقل ہو گئے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کا تعلق سرگودھا سے ہے اور یہ خاندان ایک مدت سے وہاں مقیم ہے۔ سنیارٹی میں پہلے نمبر پر آنے والے جنرل زبیر محمود حیات راولپنڈی کے اطراف کے رہنے والے ہیں

اور ان کے ایک بھائی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل ہیں تو دوسرے میجر جنرل۔ گویا اس وقت تینوں بھائی فوج کے اعلٰی عہدوں پر فائز ہیں تاہم کہا جاتا ہے کہ انہیں چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا جائے گا اور آرمی چیف کا تقرر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے میں سے ہو گا۔ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کے بھائی عرفان ندیم امریکہ میں ڈاکٹر ہیں اور عمران ندیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک نامور صحافی رہے ہیں۔ ان تینوں افراد کے مابین کون کامیاب ہو گا۔

23,24,25 ان تین دنوں میں کسی بھی وقت وزیراعظم پاکستان نئے آرمی چیف کا اس فہرست میں انتخاب کر سکتے ہیں اور جس کے بعد صدر مملکت کی تحریری مگر آئینی اور رسمی منظوری کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔ 27 اور 28 دونوں میں سے کسی ایک دن وزیراعظم کی طرف سے جنرل راحیل شریف کو الوداعی دعوت متوقع ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ تاریخ میں ایک روایت ہو گی کیونکہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیراعظم نے جانے والے آرمی چیف کو دعوت نہیں دی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…