ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

یہ ایک بات چاروں سینئر جرنیلوں میں مشترک ہے نئے متوقع آرمی چیف کے بارے میں حیران کن انکشاف

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کے علاوہ پشاور، لاہور، کوئٹہ اور کراچی میں سیاسی حلقوں بالخصوصی ریٹائرڈ آرمی افسروں کے مابین یہ بحث جاری رہی کہ موجودہ آرمی چیف کا جانا تو لازمی امر نظر آتا ہے لیکن ان کا جانشین کون ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

سوشل میڈیا پر مختلف گروپوں میں یہ مباحثہ بہت دلچسپی سے پڑھا گیا اور اس اتفاق کو بڑی دلچسپی سے زیر بحث لایا گیا کہ نئے آرمی چیف کیلئے موزوں چاروں نام یعنی زبیر محمود حیات ، اشفاق ندیم، جاوید اقبال رمدے، قمر جاوید باجوہ غرض سبھی کا تعلق ایک ہی بیج سے ہے اور سروس کے اعتبار سے یہ بیج میٹ ہیں۔ اس ضمن میں اگرچہ دو روز سے ملتان کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کا نام سب سے زیادہ زیر بحث آ رہا ہے لیکن اتوار کو دن بھر سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری کہ اعلٰی ترین خوبیوں کے باوجود لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کا تعلق چکوال سے بتایا جاتا ہے

اور یہ تاریخ کا اتفاق ہے کہ چکوال سے کوئی جنرل آرمی چیف نہ بنا اور اکثر لوگ بنتے بنتے رہ گئے۔ جن میں جنرل عبدالحمید ملک کا نام سر فہرست ہے۔ جنرل اشفاق ندیم کا تعلق قریشی خاندان سے ہے اور ان کا سروس ریکارڈ سب سے بہتر بتایا جاتا ہے۔ پاکستان نیوز نیٹ ورک کو دستیاب معلومات کے مطابق جنرل جاوید حیات رمدے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہنے والے آرائیں خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو بعد ازاں لاہور منتقل ہو گئے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کا تعلق سرگودھا سے ہے اور یہ خاندان ایک مدت سے وہاں مقیم ہے۔ سنیارٹی میں پہلے نمبر پر آنے والے جنرل زبیر محمود حیات راولپنڈی کے اطراف کے رہنے والے ہیں

اور ان کے ایک بھائی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل ہیں تو دوسرے میجر جنرل۔ گویا اس وقت تینوں بھائی فوج کے اعلٰی عہدوں پر فائز ہیں تاہم کہا جاتا ہے کہ انہیں چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا جائے گا اور آرمی چیف کا تقرر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے میں سے ہو گا۔ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کے بھائی عرفان ندیم امریکہ میں ڈاکٹر ہیں اور عمران ندیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک نامور صحافی رہے ہیں۔ ان تینوں افراد کے مابین کون کامیاب ہو گا۔

23,24,25 ان تین دنوں میں کسی بھی وقت وزیراعظم پاکستان نئے آرمی چیف کا اس فہرست میں انتخاب کر سکتے ہیں اور جس کے بعد صدر مملکت کی تحریری مگر آئینی اور رسمی منظوری کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔ 27 اور 28 دونوں میں سے کسی ایک دن وزیراعظم کی طرف سے جنرل راحیل شریف کو الوداعی دعوت متوقع ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ تاریخ میں ایک روایت ہو گی کیونکہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیراعظم نے جانے والے آرمی چیف کو دعوت نہیں دی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…