اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قندیل بلوچ کے بعد غیرت کے نام پر قتل کا معروف ترین کیس سامعہ شاہد کا تھا۔ تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق غیرت کے نام پر قتل ہونے والی پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 420کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ پولیس کے مطابق ان پر مقدمہ دھوکہ دہی اور اپنی دوسری شادی سے متعلق جعلی دستاویزات پیش کرنے کے جرم میں کی کیا گیا ہے ۔ سامعہ کے دوسرے شہر مختارکاظم اور دیگر دو افراد کو بھی ان ہی الزامات کے تحت مقدمات قائم کردیے گئے ہیں۔مقتولہ کے ماموں حق نواز نے منگلا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کراتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ مبینہ طور پر سامعہ نے ان کے بھتیجے شکیل سے 2012 میں جہلم میں اپنے آبائی علاقے پنڈوری میں شادی کی تھی۔مقتولہ 2016 میں اپنے والدین سے ملنے کے لیے پاکستان واپس آئی تھی اور حق نواز کے مطابق 20 جولائی کو اس کی طبعی موت واقع ہوگئی۔تین روز بعد مختار کاظم منظر عام پر آیا اور اس نے دعویٰ کیا کہ وہ سامعہ کا شوہر ہے اور اس نے مقامی حکام کو شادی کے حوالے سے جعلی دستاویز پیش کیں۔مختار کاظم نے کہا تھا کہ چونکہ سامعہ شکیل کی بیوی رہ چکی تھی لہٰذا اس نے دیگر دو افراد سید عباس اور زالک شاہ کے ساتھ مل کر برطانیہ میں طلاق اور شادی کے جعلی دستاویز بنائے جسے برطانوی حکام پہلے ہی جعلی قرار دے چکے ہیں۔پولیس کے مطابق سامعہ اور مختار کاظم سمیت 4افراد کے خلاف دفعات 420، 468اور471کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ پولیس کایہ بھی کہنا تھا کہ یہ مقدمات سیشن جج کے کہنے پر درج کئے گئے ۔