جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

شیخ رشید کے وارے نیارے راولپنڈی میں دبنگ انٹری کے بعد کس نے سوچا تھا کہ یہ کام ہو جائے گا

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) راولپنڈی میں 28 اکتوبر کو اپنے دبنگ انٹری سے ملک بھر میں اپنی دھاک بٹھانے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کےوارے نیارے ہو گئے ہیں ۔ان کی موٹر سائکل پر بیٹھ کر جلسہ گاہ آنے اور پھر اسی طرح موٹر سائکل پر واپس جانے کے چرچے غیر ملکی میڈیا میں بھی ہو رہے ہیں ۔
اپنی اس انٹری کا ذکر کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے ایک پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ دفعہ 144 کے باوجود موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کمیٹی چوک آنے اور کارکنان سے خطاب کرنے کی ویڈیو دکھانے کے عوض غیر ملکی میڈیا کے مختلف چینلز کی جانب سے ایک لاکھ چوبیس ہزار روپے کی ادائیگی کی پیشکش کی گئی ہے۔ لال حویلی میں بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے صحافیوں کی جانب سے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دو غیر ملکی چینلز کیجانب سے انہیں آفر دی گئی تھی کہ وہ انہیں اپنی موٹرسائیکل پر کمیٹی چوک آنے اور کارکنان سے خطاب کرنے کی ویڈیو دے دیں تو ان کے چینلز ان کو اس مد میں ایک لاکھ چوبیس ہزار روپے ادا کریں گے۔ شیخ رشید احمد نے بتایا کہ ایک چینل نے 88 ہزار روپےجبکہ دوسرے چینل کی جانب سے 37 ہزار روپے ادا کرنے کی آفر کی گئی تھی جسے انہوں نے قبول کر لیا اور وہ ادائیگی ان کی اجازت کے بعد ویڈیوز چلانے والے چینلز کی جانب سے کر دی جائے گی ۔ واضح رہے کہ شیخ رشید احمد ٹی وی شوز میں بھی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے سیاست دانوں میں شامل ہیں ۔ذرائع کےمطابق شیخ رشید ایک پروگرام میں شرکت کی فیس کئی اینکرز سے زیادہ وصول کرتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…