جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

اعلیٰ حکومتی عہدیدار اور وزراء ایک دوسرے پر برس پڑے،حکومت لرز اُٹھی

datetime 29  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اعلیٰ حکومتی عہدیدار اور وزراء ایک دوسرے پر برس پڑے،حکومت لرز اُٹھی،ترجمان وزیراعظم ہاؤس مصدق ملک نے کہا ہے کہ نیوزگیٹ کے ذمہ دار پرویز رشید ہیں ،مزید تفصیلات چوہدری نثاربتائیں گے،نہوں نے کہاہے کہ وزارت داخلہ کی انکوائری اورشواہدکے مطابق پرویزرشیدسے کوتاہی ہوئی،پرویزرشیدکوتحقیقات مکمل ہونے تک عہدہ چھوڑنے کا حکم دیاگیا۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا کہ انگریزاخبارمیں چھپنے والی خبرقومی سلامتی کے منافی تھی۔آئی ایس آئی ،ایم آئی اور آئی بی کے سینئرافسران پرمشتمل کمیٹی بنائی جارہی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کاکام ذمہ داروں کو بے نقاب کرناہے۔وزیراعظم ہاؤس کا کہناہے کہ قومی مفادمیں تمام ذمہ داروں کیخلاف ایکشن لیاجائے گا۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے قومی سلامتی سے متعلق خبر لیک ہونے کے معاملے پر وزیر اطلاعات ونشریات وقومی ورثہ پرویز رشید سے وزارت کا قلمدان واپس لے لیا،پرویز رشید کے خبر سے متعلق تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے سے الگ رہنے کی ہدایت،خبر لیک ہونے سے متعلق تحقیقات کیلئے پولیس ،آئی ایس آئی،ایم آئی اور آئی بی کے سینئر افسران پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی ،کمیٹی خبر کے مفادات اور مقاصد کی نشاندہی کرے گی۔ہفتہ کو جاری ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے قومی سلامتی سے متعلق خبر لیک ہونے کے معاملے پر وزیراطلاعات پرویز رشید سے وزارت کا قلمدان واپس لے لیا اور پرویز رشید کو خبر کے معاملے پر تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے سے الک رہنے کی ہدایت کی ہے۔اعلامیے کے مطابق وزیراطلاعات کو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کیلئے عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ پولیس اور ایجنسیوں سمیت اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے،جس میں آئی ایس آئی ،ایم آئی اور آئی بی کے سینئر افسران شامل ہوں گے،انکوائری کمیٹی الزامات سے متعلق تحقیقات کرے گی اور خبر کے مفادات اور مقاصد کی نشاندہی کرے گی۔اعلامیے کے مطابق دستیاب شواہد کے مطابق وزیراطلاعات نے کوتاہی برتی۔واضح رہے کہ 6اکتوبر کو انگریزی اخبار میں قومی سلامتی کے منافی خبر شائع ہوئی تھی،جس پر وزارت داخلہ نے خبر کے لیک ہونے سے متعلق تحقیقات کی تھیں،وزارت داخلہ کی تحقیقات میں وزیراطلاعات کی کہیں کہیں غفلت کی نشاندہی کی گئی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…