جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

والدین سکول جانے والی بچیوں کے موبائل فون وقتاً فوقتاً چیک کیاکریں ۔۔۔اعلی پولیس نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 18  اکتوبر‬‮  2016 |

کراچی (نیوزڈیسک ) والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کیساتھ شفقت سے پیش آئیں اور ان پر بلا وجہ تشدد سے اجتناب کریں جبکہ سکول جانے والی بچیوں کے موبائل فون بھی وقتاً فوقتاً چیک کریں۔ڈی آئی جی سی آئی اے ڈاکٹر جمیل احمد کا کہنا ہے کہ سعود آباد سے لاپتہ ہونے والی تینوں طالبات گھریلو پریشانیوں اور گھر والوں کے رویے سےتنگ آ کر گھر سے فرار ہوئیں۔تینوں لڑکیوں کو عدالت نے دارالایمان بھیج دیا ہے۔ اپنے دفتر میں چیف سی پی ایل سی زبیر حبیب اور ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل طارق دھاریجو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی ڈاکٹر جمیل کا کہنا تھا کہ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کیساتھ شفقت سے پیش آئیں اور ان پر بلا وجہ تشدد سے اجتناب کریں جبکہ اسکول جانے والی بچیوں کے موبائل فون بھی وقتاً فوقتاً چیک کریں۔ ڈاکٹر جمیل نے بتایا کہ ملیر سعود آباد سے تین روز قبل لاپتہ ہونیوالی تینوں اسکول طالبات کو لیاقت آباد سے بازیاب کرالیا گیا، سندھ پولیس کے سم لوکیٹرز مصروف تھے بصورت دیگر ایک روز قبل ہی پولیس طالبات کو بازیاب کرا لیتی ۔تینوں طالبات نے گھر سے نکل کر اسکول جانے کی بجائے شہر سے باہر نکلنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دوران تفتیش ایک مشتبہ موبائل فون نمبرجو ایک لڑکی(ب) سے رابطے میں تھا کا ریکارڈ نکالا گیا اور اس نمبر کو ٹریس کر کے بلدیہ ٹاؤن سعید آباد سیکٹر5-aمیں چھاپہ مار کر اعجاز نامی شخص کو حراست میں لیا گیا جس کی نشاندہی پر لیاقت آباد نمبر10میں چھاپہ مار کر دانش نامی شخص کے گھر سے تینوں طالبات کو بازیاب کرالیا گیا۔ ڈاکٹر جمیل نے کہا کہ تینوں لڑکیوں نے بتایا کہ انہوں نے از خود گھریلو ظلم و ستم سے تنگ آ کر سکول کے بستے میں اپنے کپڑے رکھ راہ فرار اختیار کی۔تینوں حب ریور روڈ کے ذریعے بلوچستان جانے کے ارادے سے نکلیں لیکن جب مواچھ گوٹھ پہنچیں اور وہاں کا ماحول دیکھا تو خوفزدہ ہو گئیں اور وہاں سے کینٹ اسٹیشن آ گئیں لیکن اس وقت کوئی بھی ٹرین بیرون شہر جانے کیلئے دستیاب نہیں تھی جس کے بعد انہیں کسی نے بتایا کہ جناح ہسپتال کے قریب کوئی ہوٹل ہے جہاں وہ کمرہ لیکر رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب تینوں طالبات جناح اسپتال کے باہر پہنچیں تو وہاں موجود اعجاز نے ایک پرچی پر اپنا موبائل فون نمبر لکھ کر ان کے سامنے پھینک دیا جس کے بعد ان میں سے ایک لڑکی نے اس نمبر پر فون کیا۔ جس پر اعجاز نے انہیں اپنے تعاون کا یقین دلایا اور اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…