جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کے حق میں آرٹیکل لکھوانے پرقومی خزانے سے کتنے لاکھ روپے ادا کیے گئے ؟رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے نواز شریف کے حق میں آرٹیکل لکھوانے پر 35لاکھ روپے ادا کر دیئے ہیں جن کو آڈٹ حکام نے غیر قانونی قرار دیدیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ2016ء میں انکشاف ہوا ہے کہ پی آئی ڈی کے پرنسپل آفیسر نے حکومت کے حق میں مختلف افراد سے آرٹیکل لکھوائے تھے جن کو 35لاکھ روپے قومی خزانہ سے ادا کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی تقریر تحریر کرنے پر بھی42لاکھ روپے خرچ کئے ہیں یہ رقم علی اکبر عباس کو 80ہزار روپے دیئے گئے ہیں جبکہ طلحہ محمد کو ایک لاکھ روپے ادا کئے گئے ہیں اور خواجہ نوید اسلم میڈیا کنسلٹنٹ کو بھی ایک لاکھ ادا کئے گئے ہیں۔ طلحہ محمود کو ماہانہ 75ہزار روپے بھی دیئے جا رہے ہیں۔ علی اکبر اور طلحہ محمود کو مجموعی طور پر گزشتہ دو سالوں کے دوران23لاکھ ادا کئے گئے ہیں ۔ خواجہ نوید اسلم کو ماہانہ ایک لاکھ دیا جا رہا ہے اور اب تک 19لاکھ روپے ادا کئے گئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق 2015ء میں پی آئی ڈی نے صحافیوں کو مختلف ہوٹلوں میں کمرے لے کر دینے اور کھانے فراہم کرنے پر 32لاکھ روپے خرچ کئے ہیں ان اخراجات کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ قوم یوم آزادی پر سبز ہلالی پرچم لہراتی ہے عمران سیاہ پرچم کیو ں لہراتے ہیں ؟اس سچائی سے انکار کیوں کہ وزیر اعظم نواز شریف کا نام کسی آف شور کمپنی میں نہیں لیکن عمران خان اور ان کے حواریوں کے نام آف شور کمپنیوں کی فہرست میں موجود ہیں، قومی وحدت کے دن عمران قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں۔ہفتہ کو ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے پانچ سوالوں کا جواب پوچھتے ہوئے کہا ہے کہ ہر یوم آزادی کی خوشی میں عمران خان احتجاج کر کے کس دشمن کو مذاق اڑانے کا موقع فراہم کرتے ہیں ؟ قوم یوم آزادی پر سبز ہلالی پرچم لہراتی ہے لیکن عمران خان سیاہ پرچم کیوں لہراتے ہیں ؟انہوں نے کہا کہ قومی وحدت کے دن عمران قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ؟کیا یہ سچ نہیں کہ عمران خان کو ملنے والی چیئریٹی کی رقم کو ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کرنے پر برطانیہ میں تحقیقات ہو رہی ہیں ؟اس سچائی سے انکار کیوں کہ وزیر اعظم نواز شریف کا نام کسی آف شور کمپنی میں نہیں لیکن عمران خان اور ان کے حواریوں کے نام آف شور کمپنیوں کی فہرست میں موجود ہیں۔مجھے یقین ہے کہ جھوٹ کے راستے پر گامزن عمران ان سوالوں کا جواب سچائی سے کبھی نہیں دینگے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…