اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

ایم کیو ایم کے سعید بھرم نے زبان کھول دی،کس نے احکامات دیئے کس کس کو مارا؟،سنسنی خیز انکشافات

datetime 3  اکتوبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیوایم ) کے کارکن سعید بھرم نے قیادت کے کہنے پر درجنوں سیاسی مخالفین اور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیاہے۔پیرکوکراچی کی جوڈیشیل مجسٹریٹ ساؤتھ کی عدالت میں ایم کیو ایم کے گرفتار کارکن سعید بھرم نے اپنے اعترافی بیان میں سنسنی خیز انکشاف کئے ہیں۔اپنے اعترافی بیان میں سعید بھرم نے انکشاف کیا کہ اس نے پارٹی قیادت کے حکم پر کراچی میں بم دھماکے کئے، محمد انور نے بانی متحدہ کے کہنے پر سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کیلئے 2004 میں ٹارگٹ کلنگ ٹیم تشکیل دی 1995 میں پولیس ہیڈ کوارٹر گارڈن پر راکٹوں سے حملہ کیا 1997 میں محمد انور کے حکم پر آئی آئی چندریگر روڈ ، کیماڑی ، طارق روڈ پر گاڑیوں میں بم دھماکے کیے ،دھماکوں کیلئے گاڑیاں چھینی گیءں۔سعید بھرم نے اعترافی بیان میں کہا کہ اس نے 1998 میں لیاقت آباد میں بکتر بند پر حملہ کرکے دو پولیس اہلکاروں کو قتل کیا ، 2003 میں عزیز آباد میں قاری یعقوب سمیت پانچ سیاسی مخالفین کو قتل کیا ، اسی سال لیاقت آباد میں تنظیم کے مخالف ظفرعرف ڈاکٹر ڈین کو قتل کیا ۔بھرم نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ 2004 میں اجمل پہاڑی کے حکم پر اپنی جماعت کے رکن عارف ذیشان کو قتل کیا ، وارداتوں میں اجمل پہاڑی، ساؤتھ افریقہ سیٹ اپ کے را ایجنٹ ناگوری، وسیم کمانڈو، ندیم ماربل ،ظفر ٹینشن اور دیگر نے ساتھ دیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…