اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

ایک ہزار 584 سرکاری افسران کی چوری اور پھر سینہ زوری،سپریم کورٹ میں معاملہ بڑھ گیا

datetime 28  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب اور حکومت سے کرپشن کی رقم رضاکارانہ طور پر جمع کروانے والوں کی تفصیلا24 اکتوبر تک طلب کرلیں۔سپریم کورٹ میں رضاکارانہ رقم واپسی پر ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔عدالت نے اٹارنی جنرل کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم کیسز میں اٹارنی جنرل دستیاب نہیں ہوتے، ایسا کریں اٹارنی جنرل کو ملک سے باہر ہی رکھیں۔فاضل بنچ کے رکن جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر جاکر بیٹھ ہی گئے ہیں۔ جنہوں نے رضاراکارنہ رقوم واپس کیں کیا وہ اپنے عہدوں پر کام کرسکتے ہیں؟۔جن افسران نے رضا کارانہ رقوم واپس کیں ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی؟حکومتی وکیل رانا وقار نے کہا کہ رقم واپس کرنے والے کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ایک ہزار 584 سرکاری افسران نے 2 ارب روپے سے زائد رقم واپس کی۔چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون کو وسعت دی گئی تو ملک کی جیلیں بھی خالی ہوجائیں گی، جس چور سے بھی مال برآمد ہو اس کو رہا کردیں اور نہ صرف رہا کریں بلکہ اس کا شکریہ بھی ادا کریں۔حکومتی وکیل نے کہا کہ جن سرکاری افسران نے رضاکارانہ رقم جمع کروائی ان کی معلومات لے رہے ہیں، جبکہ نیب آرڈیننس کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنادی ہے۔حکومتی وکیل کے جواب پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جس معاملے کو طول دینا ہو اس پر کمیٹی یا کمیشن بنادیا جاتا ہے، یہ تو پرانا طریقہ کار ہے جو اب تک رائج ہے۔عدالت نے نیب اور حکومت کو کرپشن کی رقم رضاکارانہ جمع کروانے والوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ چیف جسٹس نے چند ہفتے قبل نیب میں مبینہ طور پر غیر قانونی تقرریوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ہی نیب کے کرپشن کی رقم رضاکارانہ واپس کرنے کے آئین پر بھی ازخود نوٹس لیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو جولائی میں ایک گمنام خط موصول ہوا تھا جس میں نیب میں ہونے والی مبینہ طور پر غیر قانونی تقرریوں پر کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت اس پر ازخود نوٹس لیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…