ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

سپہ سالار نے روایت نہ توڑی، عید کے موقع پر آرمی چیف کی کیا مصروفیات رہیں؟

datetime 16  ستمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے سربراہ اور ہر دل عزیز جنرل راحیل شریف نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی اپنی عید اگلے موچوں پر باجوڑ ایجنسی میں جوانوں کے ہمراہ منائی ۔ عید کی نماز کے انہوں نے باجوڑ ایجسنی میں مقامی عمائدین اور فوجی جوانوں کے ہمراہ ادا کی۔ اس موقع پر وہ عوام میں گھل مل گئے اور ان سے ان کے مسائل بھی دریافت کئے۔ اس موقع پر عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یقین دلایا کہ فوج علاقے میں مکمل طور پر امن و امان کی بحالی تک پیچھے نہیں ہٹے گی اور اس کے بعد بھی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار مکمل طور پر ادا کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق عید الاضحیٰ کی نماز پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے باجوڑ ایجنسی میں ایف سی اور پاک فوج کے جوانوں نے ساتھ ادا کی۔ جس کے بعد انہوں نے اپنا سارا دن سپاہیوں اور مقامی لوگوں کے ہمراہ صرف کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف کو علاقے میں آپریشن کی صورتحال، آپریشن کی مکمل تفصیلات اور کلئیر کروائے گئے علاقوں میں مقامی افراد کی واپسی کے متعلق کئے جانے والے اقدامات کے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے پاک افغان سرحد کے حوالے سے بھی خصوصی طور پر احکامات جاری کئے اور سرحدی معاملات کو مزید بہتر بنانے کے لئے اہم احکامات جاری کئے ۔ پاک فوج کے سربراہ نے اس موقع پر جوانوں سے خطاب بھی کیا انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک  کے تحفظ اور دہشت گردوں کے خلاف اس جنگ میں جوانوں ںے جو قربانیاں دی ہیں پوری قوم اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے جوانوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج کے علاوہ مقامی قبائلیوں کی جانب سے جو قربانیاں دی گئیں ہیں وہ خصوصی طور پر قابل تحسین ہیں اور اس پر وہ انہیں خراج تحسی پیش کرتے ہیں  اور پوری قوم ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ جنرل راحیل شریف نے مزید کہا کہ علاقے میں ترقیاتی کام بھی تیزی سے جاری ہیں جبکہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک علاقے میں آپریشن جاری رہے گا۔ جس کے بعد علاقوں میں امن و امن کی مکمل بحالی کے بعد ایک طے شدہ طریقہ کار کے مطابق علاقے کا کنٹرول واپس مقامی افراد کے سپرد کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر مقامی عمائدین کی جانب سے بھی اس عہد کا اعادہ کیا گیا کہ علاقے سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک فوج کا ساتھ دیا جائے گا اور آئندہ یہاں دہشت گردوں کے قدم جمنے نہیں دیئے جائیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…