اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابرنے کہا ہے کہ کچھ ارکان پارٹی کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں ٗپی ٹی آئی کے اندر تحریک شروع کر رہے ہیں۔اتوار کو تحریک انصاف بانی گروپ کا مشاورتی اجلاس یہاں اسلام آباد میں مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابرنے کہا کہ جب پارٹی بنائی گئی تھی اس وقت تمام لوگوں نے کہا تھا کہ کسی کو بھی میرٹ سے ہٹ کر کوئی عہدہ نہیں دیا جائیگا ٗ بعد میں جب میں نے میرٹ سے ہٹ کر تعیناتیوں کیخلاف آواز بلند کی تو مجھے ہی نکال دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اب ہم پارٹی میں تحریک شروع کر رہے ہیں جس کے دوران تمام مافیا کو پارٹی سے نکالا جائے گا۔ چور کبھی چور کا احتساب نہیں کر سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی 2013میں اپنی لائن سے ہٹ گئی تھی۔عمران خان اپنی لائن سے ہٹ گئے ہیں وہ خود کو احتساب کیلئے پیش کریں۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے قیام کا مقصد تبدیلی اور شفافیت تھا لیکن پارٹی اپنے مقصد سے ہٹ چکی ہے۔ کرپٹ ٹولے سے نجات دلائیں گے۔ ایس اکبر نے کہاکہ کچھ لوگ پارٹی پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ روایتی سیاست دان ہی احتساب کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ ایس اکبر نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔ ناراض ارکان کا کہنا تھا وہ تحریک انصاف کو جمہوری جماعت بنا کر ہی دم لیں گے۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات سنجیدہ سیاست کا تقاضا کرتے ہیں، پاکستان مردہ بادکے نعرے لگانے والوں کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں ایک دو نشستوں کیلئے جیل میں جا کر ملاقاتیں لمحہ فکریہ ہیں، تحریک انصاف کی ناکام ریلیوں سے ثابت ہو رہا ہے کہ عوام ان کی کارکردگی سے نالاں ہیں۔ انہوں نے مشترکہ اعلامیہ بھی پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس ان تمام عہدیداروں کو مسترد کرتی ہے جنہیں پارٹی آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مقرر کیا گیا ہے۔ پارٹی میں جاری آمریت کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پارٹی آئین فی الفور بحال کیا جائے۔ تسنیم نورانی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں پارٹی بطور چیف الیکشن کمشنر دیگر ارکان کے ساتھ فوری بحال کیا جائے۔ جسٹس وجیہہ الدین احمد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی جانب سے بدعنوان ٹولے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور پوری سچائی کے ساتھ بدعنوان عناصر کو بے نقاب کرنے پر ان کی تحسین کی گئی۔ ان کی پارٹی رکنیت کی معطلی مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی الیکشن ٹریبونل کے تمام فیصلوں پر من و عن عمل کرایا جائے جن میں جہانگیر خان ترین، پرویز خٹک اور نادر لغاری کو کرپشن کے سنگین الزامات پر پارٹی سے نکالنے کا حکم بھی شامل ہے۔ غیر جانبدار احتسابی عمل کے ذریعہ تحریک انصاف کو کرپٹ عناصر سے پاک کیا جائے۔ الیکشن کمیشن پاکستان پارٹی اکاؤنٹس کا تفصیلی فورنزک آڈٹ کرائے، پارٹی اکاؤنٹس اور مالیاتی امور میں بدعنوانی اور قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعلی خیبرپختوانخوا تحریک انصاف کے وزراء سمیت وہ تمام افراد جن کے خلاف کرپشن کے شواہد موجود ہیں، اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں۔ خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز چہیتے وزراء اور ارکان صوبائی اسمبلی میں تقسیم کئے جانے کے حوالہ سے حقائق سامنے لانے کیلئے عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان بادی النظر میں پارٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی بنیادی ذمہ داریاں انجام دینے میں ناکام ہو چکے ہیں، وہ احتساب شفاف انداز میں امور کی انجام دہی اور اہلیت کی بنیاد پر ذمہ داریوں کی تفویض کے بنیادی اصول پارٹی میں نافذ نہیں کر سکے اور ان سے منحرف ہوئے ہیں لہذا پارٹی مفاد اور تبدیلی کے بنیادی نظریہ کے اصول کے تحت وہ خود کو احتساب کیلئے پارٹی کے اندر تشکیل کردہ احتساب کمیشن کے سامنے پیش کریں۔ اس عبوری عرصہ کیلئے بانی پارٹی عہدیداروں اور مخلص کارکنوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ فاؤنڈر گروپ کو صوبہ اور ضلع کی سطح پر متحرک کیا جائے گا، ملک گیر مشاورتی مہم کے ذریعہ پارٹی کارکنوں سے رابطہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے مرحوم بانی کارکنوں اور مقبوضہ کشمیر کے شہداء بالخصوص برہان مظفر وانی کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کے منتخب ایم این اے اور صوبائی اسمبلی کے اراکین بھی ہم سے رابطہ میں ہیں، اصل کارکن ہمارے پاس جبکہ عمران خان کے پاس اجرتی سیاسی کارکن ہیں، تحریک انصاف دراصل (ق) لیگ ہے، جنرل حامد کے انکشاف کے بعد وزیراعلی خیبرپختونخوا کو اقتدار میں رہنے کا اخلاقی جواز نہیں ہے، فاؤنڈر گروپ 2018ء کے عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے حقیقی کارکن جب ووٹ دے کر جن رہنماؤں کا انتخاب کریں گے تب ہی نظریاتی جماعت بن سکے گی، جہانگیر ترین کی فیکٹری کے ورکر اور شاہ محمود قریشی کے مریدوں کے ووٹ سے بننے والے عہدیدار حقیقی نہیں ہو سکتے۔