جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

عیدالاضحی‘ مویشی منڈیا ں خطرناک وائرس کے پھیلاؤ کا سبب ‘خریدار محتاط رہیں

datetime 26  اگست‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی)کراچی میں ہر سال معمول بنتا جا رہا ہے کہ قانونی مویشی منڈیوں کے بیوپاری اپنے کاروبار کو دوام بخشنے کے لئے قانونی طرز عمل اختیا ر کرنے کے ساتھ شہر بھر میں غیر قانونی مویشی منڈیوں میں اپنے جانور اور بالخصوص وہ جانور جو مکمل صحت مند نہ ہوں یا بیمارہوں چھوڑ دیتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع سمیٹا جا سکے یہ جانور کھلے عام کراچی کی سڑکوں ، گلیوں ،محلوں میں بغیرہیلتھ سرٹیفیکٹ کے گھومتے یا قیام کرتے نظر آتے ہیں جو کہ کانگو جیسی موذی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں، سروئیر آف کراچی نے کراچی کے علاقوں اورنگی ٹاون ، نیو کراچی، لیاقت آباد ، لانڈھی، کورنگی ،ملیر کے سروے کے ساتھ ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی جو کہ سپر ہائی وے پر موجود ہے کا سروے کیا اور اس دوران بیوپاریوں سے جو معلومات حاصل ہوئیں وہ سنسنی خیز ہونے کے ساتھ کراچی کی عوام کی صحت کے اعتبار سے لمحہ فکریہ تھیں، بیوپاریوں کے مطابق تمام قانونی مویشی منڈیوں میں جانور کا بڑا کاروبارکرنیوالوں کے جانورچاہے وہ کتنا ہی بیمار کیوں نہ ہو کسی نہ کسی طریقے سے بیچ کر جاتے ہیں اس کے لئے وہ اپنے بیمار جانور وں کو کراچی کے مختلف مقامات با لخصوص لاندھی اور ملیر کی غیر قانونی منڈیوں میں فروخت کرنے کے لئے بھیج دیتے ہیں ، ان بیمار جانوروں کو زندہ رکھنے کے لئے مخصوص ویکسی نیشن کی جاتی ہے جس سے وہ ایک ہفتے سے 15 دن تک صحت مند نظر آتے ہیں، فوری طور پر موت کی جانب گامزن جانوروں کومناسب داموں میں قصابوں کے حوالے کر دیاجاتا ہے ، سروئیر آف کراچی کی ٹیم کے مطابق اس وقت کراچی میں غیر قانونی مویشی منڈیوں کی تعداد سو سے زائد ہے جو کہ مزید بڑھے گی اس طرح کانگو وائرس کے پھیلنے کے بہت امکانات موجود ہیں کیونکہ یہ جان لیوا وائرس جانوروں کو ہاتھ لگانے کے علاوہ ان کے فضلے سے بھی پھیل سکتا ہے اس لئے میویشی منڈیوں کا رخ کرنے والے احتیاطی تدابیر لازمی اختیار کریں ، مویشی منڈی سے واپسی پر اینٹی بیکٹیریل صابن سے لازمی نہائیں ،جبکہ غیر قانونی مویشی منڈیاں لگوانے میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بلدیاتی انتظامیہ برابر کی ذمہ دار ہے ابھی وقت ہے لہذا متعلقہ محکمہ جات فوری طور پر اسکا سدباب کریں ورنہ خدا نخوستہ کانگو سمیت بیمار جانوروں سے منتقل ہونے والے وائرسز سے عوام کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…