جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

بلدیاتی انتخابات ،سندھ بھر کے نتیجے نے سب کو حیران کردیا

datetime 24  اگست‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے میں اندرون سندھ سے پیپلزپارٹی نے کلین سوئپ کرلیا۔ سکھر، لاڑکانہ، گھوٹکی سمیت مختلف شہروں میں جیالے میئر اور چیئرمین منتخب، تاہم حیدرآباد سے ایم کیو ایم کے میئر اور ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق حیدرآباد میں میئر اور ڈپٹی میئر انتخابات پر ایم کیو ایم نے میدان مارلیا ہے۔ ایم کیو ایم کے طیب حسین میئر اور سہیل مشہدی ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے امیدواروں نے143 ووٹوں میں سے 111 ووٹ حاصل کیے ہیں۔بدین میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اصغر ہالیپوٹو نے 51 ووٹ لیکر ذوالفقار مرزا کے بیٹے حسام مرزا کو شکست دیکر چئیرمین اور اللہ ڈنو چانڈیو وائس چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں، ذوالفقار مرزا کے بیٹے حسام مرزا نے 45ووٹ حاصل کیے۔سکھر میں بھی پیپلز پارٹی نے کلین سوئپ کرلیا ہے، میئر اور ڈپٹی میئر انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ارسلان شیخ میئر اور طارق چوہان بلامقابلہ ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے ہیں۔ سکھر میں ضلعی کونسل چیئرمین اور وائس چیئرمین انتخابات میں پی پی کے اسلم شیخ چیئرمین اور شاہزیب شاہ وائس چیئرمین بلامقابلہ منتخب ہوئے۔دوسری جانب لاڑکانہ میں بھی پیپلز پارٹی نے میدان مارلیا ہے۔ پی پی کے اسلم شیخ 22 ووٹ لے کر میئر اور انور علی نواز لہر ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے ہیں۔ پی پی امیدواروں نے 30 میں سے 22 ووٹ حاصل کیے ہیں، جبکہ گھوٹکی کی ڈہرکی ٹاؤن کمیٹی میں پی پی کے منیر احمد مہر بارہ ووٹ لے کر چیئرمین اور اکرام الحق وائس چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔قمبرشہدادکوٹ کی میونسپل کمیٹی قمبر پر پی پی کے شعبان علی شیخ چیئرمین اور ذوالفقار علی خانزادہ وائس چیئرمین منتخب، جبکہ قمبرشہداد کوٹ ضلعی کونسل چیئرمین کی نشست پر پی پی کے محمد قاسم کھوسہ چیئرمین اور وائس چیئرمین سید عتیق شاہ بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔گھوٹکی میں ضلعی کونسل پر پی پی کے حاجی خان مہر اناسی ووٹ لے کر چیئرمین اور محمد صفدر چاچڑ وائس چیئرمین منتخ، جبکہ نوشہروفیروز کی مہراب پور ٹان کمیٹی کی ن لیگ کے فاروق لودھی انیس ووٹ لے کر چیئرمین اور جاوید میمن وائس چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…