بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کی بڑی مشکل حل ہو گئی ،خیبر پختونخواہ نے زبردست اقدام اٹھا لیا

datetime 4  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) ناصر خان درانی نے کہا ہے کہ محکمہ پولیس میں اصلاحات اور اسے بااختیار بنانے کے لیے جاری ہونے والا پولیس آرڈر 2016 عوامی شکایات کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ایک انٹرویو میں ناصر خان درانی نے کہا کہ اس نئے قانون کے تحت پولیس میں بھرتیوں کا ایک ایسا نظام بنا دیا گیا ہے کہ جس میں وزیراعلیٰ سے لے کر کوئی بھی سیاستدان مداخلت نہیں کرسکتاانھوں نے واضح کیا کہ پولیس میں تمام بھرتیاں اب میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔آئی جی نے کہاکہ پولیس آرڈر 2016 کے اجرا میں خیبر پختونخوا کی حکومت کا اہم کردار ہے جس نے گذشتہ 3 سالوں سے اپنے قانونی اختیارات مجھے دے دیئے تھے اورآج جو کچھ ہوا ہے وہ ان کی 3 سالہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ناصر درانی نے کہاکہ پولیس سے متعلق ایک عام تاثر یہ پایا جاتا تھا کہ اس میں کرپشن بہت ہے اور اہلکار رشوت لے کر بھرتی ہوتے ہیں ٗ عوام کی خواہش تھی کہ جب یہ ہمارے ٹیکسوں سے اپنے معاملات چلاتے ہیں تو ہمیں جواب دہ بھی ہوں۔انہوں نے کہاکہ پہلے پولیس حکومت کو جواب دہ تھی چونکہ پولیس عوامی خدامت کیلئے بنی ہے تو ہم نے کوشش کی کہ اسے بااختیار بنانے کے ساتھ احتساب کا بھی ایک نظام بنایا جائے جس کو نئے قانون میں شامل کیا گیا ہے، تاکہ اگر کسی کو اتھارٹی دی جائے تو اس سے سوال کرنے کا بھی حق ہو۔انہوں نے کہاکہ نئے قانون کے بعد اب اتھارٹی اور احتساب دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں گی۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں نظام کی بہتری میں جن مشکلات کا سامنا رہا ٗان میں بیوروکریسی کی مداخلت ایک بڑا مسئلہ تھاکیونکہ ہمارے یہاں ہر کوئی ہی مالک بنا پھرتا ہے۔ناصر درانی نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ یہ سسٹم ہے کہ اگر کوئی ایک محکمے کا سربراہ ہے تو تمام لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں۔کے پی پولیس کے سربراہ نے کہاکہ ابھی بھی بہت سی تبدیلیاں کرنا باقی ہیں اور ہوسکتا ہے اس دوران مزید غلطیاں بھی ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…