ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

اللہ نہ کرے کہ میں دوبارہ۔۔۔۔!! رینجرز کی حراست کا اثر تھا یا کچھ اور ؟ ڈاکٹر عاصم نے اچانک یہ کیا کہہ دیا

datetime 30  جولائی  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک )سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ میں تبدیلی خوش آئند ہے تاہم اللہ نہ کرے کہ جو وہ کبھی دوبارہ سیاست میں آئیں یا سندھ کے گورنر بنیں۔ کراچی کی احتساب عدالت میں ڈاکٹرعاصم و دیگر کے خلاف 17 ارب روپے کی کرپشن سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ ڈاکٹر عاصم کے وکیل چوہدری اظہر صدیقی نے عدالت کے سامنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیب اہم دستاویزات چھپا رہا ہے اور 7 گواہوں کے بیانات کی نقول بھی فراہم نہیں کی جارہیں، یہ عمل نیب کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔ کیس میں ملزم بشارت مرزا کے وکیل نے کہا کہ نیب نے عدالت کے سامنے جتنا مواد پیش کیا اس پر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی، ڈاکٹرعاصم کانام دیگر ملزمان کیساتھ جوڑدیا گیا ہے، اور اب ہم دھکے کھاتے پھر رہے ہیں فردجرم سے پہلے ہائی کورٹ میں زیرسماعت معاملے کا فیصلہ ہونے دیا جائے۔ نیب کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ فرد جرم کا معاملہ بلاجواز تاخیر کا شکار ہورہا ہے، نیب نے تمام گواہوں کے بیانات فراہم کردیے ہیں ملزمان نے اس سے متعلق جو درخواستیں دائرکی ہیں وہ مسترد کی جائیں، سندھ ہائی کورٹ نے کسی قسم کا کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کیا۔
عدالت نے معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں ہونے کے باعث کیس کی مزید سماعت 13 اگست تک ملتوی کردی۔ عدالت میں پیش کے موقع پر ڈاکٹر عاصم نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری جے آئی ٹی رپورٹ میں مجھے کالا لکھا گیا ہے، اگر کالا ہونا بھی جرم ہے تو کیا لیاری والے تمام عوام جرائم پیشہ ہیں۔ ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ اللہ نہ کرے میں کبھی گورنر بنوں اور دوبارہ سیاست میں آؤں۔ میرے علم میں نہیں کہ قائم علی شاہ کو ان کے منصب سے کیوں ہٹایا گیا ہے تاہم مراد علی شاہ کا سندھ کا وزیر اعلیٰ منتخب ہونا خوش آئند ہے کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاق کوبھی چاہئے کہ معیشت کے حب پر توجہ دے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ڈاکٹر عاصم کا یہ بیان رینجرز کی حراست میں تحویل رہنے یا ان کی بیماری کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…