بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

اللہ نہ کرے کہ میں دوبارہ۔۔۔۔!! رینجرز کی حراست کا اثر تھا یا کچھ اور ؟ ڈاکٹر عاصم نے اچانک یہ کیا کہہ دیا

datetime 30  جولائی  2016 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک )سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ میں تبدیلی خوش آئند ہے تاہم اللہ نہ کرے کہ جو وہ کبھی دوبارہ سیاست میں آئیں یا سندھ کے گورنر بنیں۔ کراچی کی احتساب عدالت میں ڈاکٹرعاصم و دیگر کے خلاف 17 ارب روپے کی کرپشن سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ ڈاکٹر عاصم کے وکیل چوہدری اظہر صدیقی نے عدالت کے سامنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیب اہم دستاویزات چھپا رہا ہے اور 7 گواہوں کے بیانات کی نقول بھی فراہم نہیں کی جارہیں، یہ عمل نیب کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔ کیس میں ملزم بشارت مرزا کے وکیل نے کہا کہ نیب نے عدالت کے سامنے جتنا مواد پیش کیا اس پر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی، ڈاکٹرعاصم کانام دیگر ملزمان کیساتھ جوڑدیا گیا ہے، اور اب ہم دھکے کھاتے پھر رہے ہیں فردجرم سے پہلے ہائی کورٹ میں زیرسماعت معاملے کا فیصلہ ہونے دیا جائے۔ نیب کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ فرد جرم کا معاملہ بلاجواز تاخیر کا شکار ہورہا ہے، نیب نے تمام گواہوں کے بیانات فراہم کردیے ہیں ملزمان نے اس سے متعلق جو درخواستیں دائرکی ہیں وہ مسترد کی جائیں، سندھ ہائی کورٹ نے کسی قسم کا کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کیا۔
عدالت نے معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں ہونے کے باعث کیس کی مزید سماعت 13 اگست تک ملتوی کردی۔ عدالت میں پیش کے موقع پر ڈاکٹر عاصم نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری جے آئی ٹی رپورٹ میں مجھے کالا لکھا گیا ہے، اگر کالا ہونا بھی جرم ہے تو کیا لیاری والے تمام عوام جرائم پیشہ ہیں۔ ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ اللہ نہ کرے میں کبھی گورنر بنوں اور دوبارہ سیاست میں آؤں۔ میرے علم میں نہیں کہ قائم علی شاہ کو ان کے منصب سے کیوں ہٹایا گیا ہے تاہم مراد علی شاہ کا سندھ کا وزیر اعلیٰ منتخب ہونا خوش آئند ہے کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاق کوبھی چاہئے کہ معیشت کے حب پر توجہ دے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ڈاکٹر عاصم کا یہ بیان رینجرز کی حراست میں تحویل رہنے یا ان کی بیماری کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…