بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

اس تاریخ کے بعد افغانیو ں کو پاکستان میں بر داشت نہیں کر سکتے اہم شخصیت نے نا قابل یقین اعلان کر دیا

datetime 29  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) ریٹائر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ نے خبردار کیا ہے کہ افغان مہاجرین کو 31 دسمبر 2016 تک پاکستان چھوڑنا ہوگا۔سینیٹ کے اجلاس کے دوران سینیٹرز کے سوالات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے عبدالقادر کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان 31 دسمبر 2016 کے بعد افغانیوں کی موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے جنگ سے متاثرہ افغان عوام کو پناہ فراہم کرنے کے لیے بہت کچھ کیا ہے، انھوں نے کہا کہ ‘وقت آگیا ہے کہ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس چلے جائیں۔عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کو ملک میں مزید رہنے کی اجازت دینا پاکستان کیلئے بہت مشکل ہوجائے گا اور اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کو پاکستان کو درپیش مسائل کا احساس کرنا چاہیے۔سیفرون کے وزیر کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے دہشت گردی اور خود کش حملوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں، ‘ تاہم ان میں سے کچھ لوگ دیگر جرائم میں ملوث پائے گئےہیں۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 25 لاکھ 68 ہزار افغان مہاجرین موجود ہیں، جن میں سے 15 لاکھ 68 ہزار رجسٹر ہیں جبکہ 10 لاکھ افغان مہاجرین غیر رجسٹر ہیں۔رجسٹر افغان مہاجرین میں 5 لاکھ 33 ہزار کیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ دیگر کیمپوں سے باہر رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، انھوں نے کہا کہ سال 2002 سے اب تک 40 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان سے واپس جاچکے ہیں۔عبدالقادر بلوچ نے بتایا کہ ‘خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت متعدد مرتبہ افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے وفاقی حکومت سے درخواست کرچکی ہے۔انھوں نے کہاکہ سیفرون کی وزارت، وزارت خارجہ کی مدد سے یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہے۔انھوں نے زور دیا کہ ‘چاہے حالات کچھ بھی ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین جلد از جلد اپنے ملک واپس چلے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…