بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

ایبٹ آبادمیں اسامہ بن لادن کاکمپاؤنڈ،بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا

datetime 23  جولائی  2016 |

ایبٹ آباد(آن لائن) اسامہ بن لادن کمپاؤنڈ اراضی، ضلعی انتظامیہ اور کینٹ بورڈ میں ٹھن گئی۔ کینٹ بورڈ کی جانب سے دیوار کی تعمیر کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اپنی ملکیت کے وارننگ بورڈ نصب کردیئے۔ دیواروں پربھی صوبائی حکومت کی ملکیت کی تحریر لکھوادی۔ اس ضمن میں ’’آن لائن ‘‘کوبتایاکہ بلال ٹاؤن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ والی چھ کنال تیرہ مرلے اراضی کنٹونمنٹ کی حدود میں آتی ہے۔ جس وقت کمپاؤنڈ کو مسمار کیاگیا اس وقت یہ اراضی چارسدہ تنگی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے نام پرتھی۔تاہم اس وقت صوبائی حکومت نے اراضی کے حوالہ سے 15 دن کی ڈیڈ لائن دی تھی تاہم اس وقت ایبٹ آبادکنٹونمنٹ کی جانب سے اراضی کے حصول کیلئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جس پر بورڈ آف ریونیو نے 6 کنال 13 مرلہ کی اراضی صوبائی حکومت کے نام منتقل کر دی تھی۔ اس سلسلہ میں بورڈ آف ریونیو ایبٹ آباد کی انتظامیہ نے کاغذات سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ارسال کئے تھے۔ ذرائع کے مطابق کینٹ بورڈ حکام اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ والی جگہ قبرستان کیلئے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کینٹ بورڈ کے ایک ملٹری آفیسر نے صحافیوں کو بتایاکہ پورے علاقے میں کوئی بھی قبرستان نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے یہ جگہ قبرستان کیلئے وقف کی جائے گی۔ جون کے مہینے میں کینٹ بورڈ کی جانب سے کمپاؤنڈ والی جگہ پر کانٹے دار تارلگائی گئی۔ تاہم اگلے روز ضلعی انتظامیہ کے اہلکار اس تار کو اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق چند روز قبل کینٹ بورڈ کی جانب سے اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ والی اراضی پر دیوار تعمیر کی گئی۔ تاہم دیوار کی تعمیر مکمل ہوتے ہی ضلعی انتظامیہ نے اس دیوار پر چونا لگا کر اس پر تحریر کروادیا کہ یہ جگہ صوبائی حکومت کی ملکیت ہے۔ جبکہ ہفتہ کے روز اسسٹنٹ کمشنر عباس شاہ کی موجودگی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اراضی پر تنبیہ بورڈ بھی نصب کردیاگیا۔ جس پر تحریر ہے کہ ’’یہ پراپرٹی حکومت خیبرپختونخواہ کی ملکیت ہے۔ اس پراپرٹی میں عمل دخل کرنیوالوں کیساتھ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ منجانب خیبرپختونخواہ حکومت‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…