جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

امریکہ کے پاکستان مخالف ارادے بے نقاب, پالیسی منظر عام پر آ گئی۔۔۔

datetime 20  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی رپبلکن پارٹی نے اپنی مستقبل کی پالیسیوں کا اعلان کردیا جس میں پاکستان کے متعلق بھی اس جماعت کے خطرناک ارادے بے نقاب ہو گئے ، ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت حکومت ملنے پر بھارت کو اپنا قریبی اتحادی بنانے کی خواہش مند ہے جبکہ پاکستان اور چین کے متعلق اس کی پالیسی یکسر مختلف ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت نے حکومت ملنے پر بھارت کو اپنا قریبی اتحادی بنانے کی خواہش مند ہے جبکہ پاکستان اور چین کے متعلق اس کی پالیسی یکسر مختلف ہے۔ اورپاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے متعلق اس کی خواہش ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر پاکستانی جوہری اثاثوں کو قبضے میں لے گی۔ اپنی مستقبل کی ان پالیسیوں کا اعلان ری پبلکن جماعت نے اپنے 58صفحات پر مشتمل انتخابی منشورمیں کیا ہے جو حال ہی میں کلیولینڈ میں ہونے والے پارٹی کنونشن میں منظرعام پر لایا گیا ہے۔منشور کے ایک پیراگراف میں بھارت کو ’’ہمارا قریبی جغرافیائی سیاسی اتحادی‘‘ اور ’’سٹریٹجک تجارتی پارٹنر‘‘ کہا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ ہم بھارت کے جمہوری اداروں کو ترقی دیں گے جس سے نہ صرف اسے ایشیاء کا لیڈر بنایا جائے گا بلکہ دنیا میں بھی اس کی حیثیت ایک رہنماء کی ہو گی۔ اس کے برعکس بحر جنوبی چین سمیت کئی معاملات میں چین کے ساتھ سختی سے نمٹنے اور اس سمندر علاقے کے قریب ترین امریکی نیوی کی بیس قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’محفوظ‘ بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکہ کے ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ کو رپبلکن پارٹی نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے باضابطہ طور پر اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔
امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں جاری رپبلکن کنونشن میں ووٹنگ کے دوران ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ریاست نیویارک کی جانب سے اپنے والد کی حمایت کا اعلان کیا، جس کے بعد انھیں صدارتی نامزدگی کے لیے درکار 1237 سے زیادہ مندوبین کی حمایت حاصل ہو گئی۔اس کے بعد ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال رائن نے رپبلکن پارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کا اعلان کیا۔ٹرمپ کے حامی کل مندوبین کی تعداد 1725 رہی، جب کہ ان کے قریب ترین حریف ٹیڈ کروز صرف 475 مندوبین کی حمایت ہی حاصل کر پائے۔ سابق امریکہ صدر بش کے بھائی جیب بش صرف تین مندوبین کی حمایت بٹور سکے۔توقع ہے کہ 68 سالہ ہلیری کلنٹن کی باضابطہ صدارتی نامزدگی کا اعلان اگلے ہفتے فلیڈیلفیا میں ہونے والے ڈیموکریٹک کنونشن میں کیا جائے گا۔

موضوعات:



کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…