منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

سند ھ حکومت نے رینجرز کو ان کی ’’حدود‘‘ یاد کروادیں،معاملہ بڑھ گیا

datetime 19  جولائی  2016 |

لاڑکانہ(این این آئی) وزیراعلیٰ سندھ قائم کے شاہ نے لاڑکانہ ڈویڑن میں امن امان کی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال، صوبائی وزیر خوراک ناصر شاہ اور دیگر وزرا سمیت پولیس اور ڈویڑنل حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے واضع کیا کہ رینجرز کو چار سنگین معاملات پر کاروائیوں کے لیے دیئے گئے اختیارات صرف کراچی تک محدود ہیں وہ سندھ کے باقی علاقوں میں کسی بھی قسم کی کاروائیاں نہیں کرسکتی۔ انہوں نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے حوالے سے کہا کہ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے اور اس پر پارٹی قیادت سے مشاورت کی جائے گی۔ رینجرس ہو یا پولیس ان کو اپنے دائر اختیار میں کام کرنا ہوگا کسی کو اختیارات سے تجاوز کرنا نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے فرار ہونے والے قادر پٹیل کی گرفتاری کے لیے وزیر داخلہ سندھ نے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ اسد کھرل کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں وزیر داخلہ سندھ کے بھائی طارق سیال کا نام نہیں آرہا۔ اسد کھرل کے واقعے کی پولیس تحقیقات کررہی ہے رپورٹ آنے کے بعد کاروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کہیں بھی حکومت سندھ اور لافورسز ایجنسیز کے مابین تضاد نہیں، ہم سب مل کر امن امان کو یقینی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔ امجد صابری کے کیس میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے کارندے کراچی سے گرفتار ہوئے ہیں، اندرون سندھ میں اس قسم کا کیس سامنے نہیں آیام شکارپور اور جیکب آباد میں جو دھماکے ہوئے ان میں بلوچستان سے آئے ہوئے دہشتگرد ملوث تھے جن کو گرفتارکرلیا گیا۔ یہاں پر پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے نیٹ ورک کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ اجلاس میں کمشنر لاڑکانہ ڈویڑن انعام اللہ داریجو نے وزیراعلیٰ کو امن امان اور ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس سے پہلے وزیراعلیٰ سندھ لاڑکانہ پہنچنے پر وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کی رہائش گاہ پر پہنچے جہاں پر انہوں نے سہیل انور سیال سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں اسد کھرل کے فرار ہونے کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…