منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر ٗ جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے بھارتی حکومت کی سیاسی حریفوں اور سیاسی حلقوں سے تعاون کی درخواست

datetime 11  جولائی  2016 |

سرینگر (این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں آٹھ جولائی سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے بھارتی حکومت نے سیاسی حریفوں اور کشمیر میں سرگرم تمام سیاسی حلقوں سے تعاون کی درخواست کردی تاہم علیحدگی پسندوں نے ان اپیلوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ نہتے مظاہرین پر فائرنگ کا سلسلہ اور عوامی اجتماعات پر پابندی کو فوراً بند کیا جائے تو حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق21 سالہ برہان کے جنازے میں وادی بھر سے لوگوں نے شرکت کیلئے مارچ کیا تو مختلف مقامات پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں پیر کی دوپہر تک 30 افراد شہیدہوگئے تھے۔پولیس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے جنوبی کشمیر کے سنگم علاقہ میں پولیس کی ایک گاڑی کو دھکیل کر دریا میں پھینک دیا جس میں ایک پولیس اہلکار مارا گیا۔ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی کی حمایت یافتہ حکومت کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کابینہ کا اجلاس طلب کر کے فورسز کو تلقین کی کہ وہ غیرمہلک طریقوں سے مظاہروں پر قابو پائیں۔ اجلاس کے بعد حکومت کے ترجمان اور حکمران پی ڈی پی کے سینیئر رہنما نعیم اختر نے تمام سیاسی حلقوں خاص طور پر حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ حالات کو بحال کرنے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔میر واعظ عمر ٗ سید علی گیلانی اور یاسین ملک نے اس اپیل کے ردعمل میں کہا ہے کہ حالات خراب کرنے میں سرکاری فورسز کا بنیادی کردار ہے۔ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے اگر جلوسوں کو روکنے اور نہتے مظاہرین پر فائرنگ کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا تو حالات مزید خراب ہوجائیں گے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی انڈیا کی حزب مخالف کی جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی اور کشمیر میں اپوزیشن کے رہنما عمر عبداللہ کو ٹیلی فون کر کے ان سے تعاون کرنے کی درخواست کی ہے۔عمر عبداللہ نے پہلے ہی یہ واضح کیا ہے کہ اگر محبوبہ مفتی سامنے آکر قیام امن کی کوششوں کی قیادت کریں تو وہ ہر تعاون کے لیے تیار ہیں۔انھوں نے محبوبہ مفتی سے کہا کہ انہیں اپنے غیر منتخب ترجمان اور پولیس افسروں پر تکیہ کرنے کے بجائے لوگوں کے سامنے آنا چاہیے۔ پیر کو جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں ٹیلیفون اور موبائل سروس بحال کی گئیں تاہم انٹرنیٹ پر بدستور پابندی رہی ٗہندوؤں کی امرناتھ یاترا کے لیے کشمیر میں درماندہ 25 ہزار یاتریوں کو بھی کشمیر سے بحفاظت جموں کی طرف روانہ کیا گیا پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ امرناتھ کی یاترا کو دو روز کی معطلی کے بعد بحال کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…