ہفتہ‬‮ ، 31 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان کی ’’دوغلی پالیسی‘‘ایازصادق نے بڑا الزام عائد کردیا،ایسی باتیں کہ جواب دینا انتہائی مشکل

datetime 24  جون‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی )اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صاد ق نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم کے خلاف جو ریفرنس دائر کیا ان کو تو اس کا حق حاصل ہے لیکن میرے پاس یہ حق نہیں تھا ،جس نیت سے ٹی او آر کمیٹی بنائی گئی تھی وہ سب کے سامنے ہے ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے صرف میڈیا کی حد تک ٹی او آرز کمیٹی سے علیحدگی کی بات کی ہے ،کوئی ڈیڈ لاک نہیں جو بھی چھوٹی موٹی رکاوٹ ہے اسے مل بیٹھ کر حل کر لیں گے ،ٹی او آرز کی قانون سازی میں صرف وزیرعظم کوہی نہیں بلکہ سب کو شامل کیا جائے ۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے اچھرہ کے علاقہ رحما ن پورہ میں اپنے اعزازمیں دئیے گئے افطارڈنر کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا ۔اس موقع پر پولیٹیکل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ پنجاب میاں طارق ،حافظ میاں نعمان اورصلاح الدین پپی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے کہ احتسا ب کی شروعات وزیراعظم سے کی جائے لیکن حکومت کہتی ہے کہ ٹی او آرز کی قانون سازی میں صرف وزیرعظم کوہی نہیں بلکہ سب کو شامل کیا جائے ۔ٹی او آرز کے معاملے پر کوئی ڈیڈ لاک برقرار نہیں کیونکہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے ابھی تک میڈیا پر ہی ٹی او آرز کمیٹی سے علیحدگی کے بیانات دئیے ہیں ۔باضابطہ طور دنوں پارٹیوں میں سے کسی نے بھی ٹی او آرز کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا ۔مجھے امید ہے کہ تمام پارٹیاں مل بیٹھ معاملہ حل کرلیں گی ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم کے خلاف جو ریفرنس دائر کیا ان کو یہ حق حاصل ہے لیکن میرے پاس یہ حق نہیں تھا ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان حکم امتناعی لیں تو حقدار ٹھہرتے ہیں اور اگر ہم لیں تو گناہگار قرار دیا جاتا ہے ،یہ دوغلی پالیسی اب تبدیل ہونی چاہیے ۔انہوں نے عمران خان کی طرف سے بلاول کواپنے کنٹینرپر دعوت دینے کے سوال پر کہا کہ عمران خان کا یہ ایک او ر بہت بڑا یو ٹرن ہے کیونکہ یہ و ہی پیپلزپارٹی ہے جس پر انہوں نے دنیا جہاں کے الزامات لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور اب اسی جماعت کو ساتھ ملانے کی باتیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ (ن )لیگ کسی کے دھرنوں سے نہ پہلے کبھی خوفزدہ ہوئی اور نہ اب ہو گی ۔پاکستان کی ترقی کا سفر اب کسی صورت رکنے والا نہیں ،(ن )لیگ کے تمام منصوبے مکمل ہوں گے اور حکومت اپنی مدت پوری کریں گی ۔ انہوں نے کہاکہ میں امید رکھتاہوں کہ وزیراعظم جلد وطن واپس آجائیں گے تاہم یہ ڈاکٹروں کی رائے پر بھی منحصر ہے کہ طبی معائنے کے تحت کب تک اجازت ملتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…