منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کی ’’دوغلی پالیسی‘‘ایازصادق نے بڑا الزام عائد کردیا،ایسی باتیں کہ جواب دینا انتہائی مشکل

datetime 24  جون‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی )اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صاد ق نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم کے خلاف جو ریفرنس دائر کیا ان کو تو اس کا حق حاصل ہے لیکن میرے پاس یہ حق نہیں تھا ،جس نیت سے ٹی او آر کمیٹی بنائی گئی تھی وہ سب کے سامنے ہے ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے صرف میڈیا کی حد تک ٹی او آرز کمیٹی سے علیحدگی کی بات کی ہے ،کوئی ڈیڈ لاک نہیں جو بھی چھوٹی موٹی رکاوٹ ہے اسے مل بیٹھ کر حل کر لیں گے ،ٹی او آرز کی قانون سازی میں صرف وزیرعظم کوہی نہیں بلکہ سب کو شامل کیا جائے ۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے اچھرہ کے علاقہ رحما ن پورہ میں اپنے اعزازمیں دئیے گئے افطارڈنر کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا ۔اس موقع پر پولیٹیکل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ پنجاب میاں طارق ،حافظ میاں نعمان اورصلاح الدین پپی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے کہ احتسا ب کی شروعات وزیراعظم سے کی جائے لیکن حکومت کہتی ہے کہ ٹی او آرز کی قانون سازی میں صرف وزیرعظم کوہی نہیں بلکہ سب کو شامل کیا جائے ۔ٹی او آرز کے معاملے پر کوئی ڈیڈ لاک برقرار نہیں کیونکہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے ابھی تک میڈیا پر ہی ٹی او آرز کمیٹی سے علیحدگی کے بیانات دئیے ہیں ۔باضابطہ طور دنوں پارٹیوں میں سے کسی نے بھی ٹی او آرز کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا ۔مجھے امید ہے کہ تمام پارٹیاں مل بیٹھ معاملہ حل کرلیں گی ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم کے خلاف جو ریفرنس دائر کیا ان کو یہ حق حاصل ہے لیکن میرے پاس یہ حق نہیں تھا ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان حکم امتناعی لیں تو حقدار ٹھہرتے ہیں اور اگر ہم لیں تو گناہگار قرار دیا جاتا ہے ،یہ دوغلی پالیسی اب تبدیل ہونی چاہیے ۔انہوں نے عمران خان کی طرف سے بلاول کواپنے کنٹینرپر دعوت دینے کے سوال پر کہا کہ عمران خان کا یہ ایک او ر بہت بڑا یو ٹرن ہے کیونکہ یہ و ہی پیپلزپارٹی ہے جس پر انہوں نے دنیا جہاں کے الزامات لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور اب اسی جماعت کو ساتھ ملانے کی باتیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ (ن )لیگ کسی کے دھرنوں سے نہ پہلے کبھی خوفزدہ ہوئی اور نہ اب ہو گی ۔پاکستان کی ترقی کا سفر اب کسی صورت رکنے والا نہیں ،(ن )لیگ کے تمام منصوبے مکمل ہوں گے اور حکومت اپنی مدت پوری کریں گی ۔ انہوں نے کہاکہ میں امید رکھتاہوں کہ وزیراعظم جلد وطن واپس آجائیں گے تاہم یہ ڈاکٹروں کی رائے پر بھی منحصر ہے کہ طبی معائنے کے تحت کب تک اجازت ملتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…