منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی کا نیا پینترا، شریف فیملی سے متعلق بڑا فیصلہ کر لیا

datetime 23  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کو پانامہ انکشافات پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے اغواء اور امجد صابری کے قتل پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس زرداری ہاؤس اسلام آبادمیں منعقد ہوا،جس میں قومی اسمبلی میں قائد خزب اختلاف سید خورشید شاہ،سینیٹر اعتزاز احسن،سینیٹرشیری رحمان،سینیٹر فرحت اللہ بابر سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔اجلاس میں شریک قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت وزیراعظم اور اہلخانہ کی جوابدہی پر راضی نہیں ہے۔ ٹی او آرز کمیٹی میں ڈیڈلاک پر بریفنگ دیتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر بہت کوشش کی کہ پارلیمانی کمیٹی میں ٹی اوآرز کا مسئلہ حل ہو جائے مگر افسوس حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسئلہ حل نہ ہوسکا،حکومت وزیراعظم اور انکے اہلخانہ کا احتساب نہیں چاہتی،اپوزیشن کے ساتھ مل کر بہت کوشش کی کہ پاناما لیکس پر بننے والی پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس میں ٹی اوآرزسے متعلق معاملات حل کر لئے جائیں لیکن حکومتی کمیٹی وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے احتساب کیلئے تیار نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتیں عید کے بعد احتجاج کرنا چاہ رہی ہیں ہمیں بھی اس بارے میں کچھ کرنا چاہیے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پانامہ لیکس پر وزیراعظم اور ان کے خاندان سے جوابدہی کا مطالبہ اصولوں پر مبنی ہے، انہیں اس معاملے پر جوابدہ ہونا ہی ہو گا۔ بلاول بھٹو نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے اغواء اور امجد صابری کے قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردوں کے سامنے ہار نہیں مانیں گے۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں کراچی کی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں امجد صابری کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔جبکہ اس موقعہ پر آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات پر مشاورت بھی کی گئی۔کور کمیٹی نے آئندہ تمام معاملات کی حکمت عملی پارٹی رہنماؤں کی مشاورت سے بنانے کا فیصلہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…