منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ رشیدپر ناجائز قبضے کا الزام،حکومت تفصیلات سامنے لے آئی

datetime 22  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق نے کہا ہے کہ شیخ رشیدمتروکہ وقف املاک بورڈ کے پانچ مرلے کے ہال اور چھ کمروں پر ناجائزقابض ہیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدیق الفاروق نے کہا کہ راولپنڈی کی لال حویلی متروکہ وقف املاک بورڈ کی نہیں بلکہ وہ شیخ رشید احمد ہی کی ملکیت ہے تاہم ہمارا 5 مرلے کا ایک ہال اور 6 کمروں پر شیخ رشید کا ناجائز قبضہ ہے۔ اب شیخ رشید اور ان کے بھائی نے ہمیں درخواست دی ہے کہ انہیں کرایہ دار بنا لیا جائے، ہم ان سے کرایہ بھی لیں گے اور جرمانہ بھی ڈالیں گے۔ صدیق الفاروق نے کہاکہ شیخ رشید پارلیمنٹ میں جو مرضی شور مچا لیں،لیکن وہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے سامنے اچھا بچہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے جو قبضہ پرویز مشرف کے دور میں کیا تھا اس کے بقایا جا ت دینے کو تیار ہیں، میرا ان کو مشورہ ہے کہ وہ ملک کی ترقی کے لیے سیاست میں بھی اچھے بچے بن جائیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں اب ہماری جائیدادوں کی نیلامی دگنے ریٹس پر ہو رہی ہے قانونی معاملات کی وجہ سے ہماری ناقابل واپسی زر ضمانت میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوسکا اب ہم نے کمزوریوں پر قابو پا لیا ہے اور امید ہے کہ آئندہ مالی سال میں ناقابل ضمانت زر ضمانت کی مد میں تیس کروڑ روپے زائد آمدنی ہو گی، وفاقی حکومت کو ہم نے قوانین میں ترمیم کے لیے کہا ہے جسکے بعد پانچ سال کے لیے جائیدادیں نیلام کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب کی زمین کے معاملات کا وزیر اعظم نے نوٹس لیا ہے وہاں 29کروڑ سے زائد کے بقایا جات ہیں اور ہماری 18000ایکڑ زمین پر قبضہ ہے سکھر میں چار ہزار ایکڑ زمین ایسی ہے جسکو کبھی نیلام ہی نہیں ہونے دیا گیا انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے پنجاب میں دو ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ ہے ان تمام زمینوں کی نیلامی کرائیں گے ہم پاکستان کا نام اقلیت نواز ملک کے طور پر مزید روشن کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہماری آمدن کو ہندو اور سکھ دونوں برادریوں میں برابر تقسیم کیا جا رہا ہے، چالیس لاکھ سے زائد ہندو بھائی بہنیں ہمارے اپنے شہری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…