پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

اگر ملک ایک ماہ تک وزیراعظم کے بغیر چل سکتا ہے تو ایسے وزیراعظم کی کیا ضرورت ہے ٗبلاول بھٹو زر داری

datetime 21  جون‬‮  2016 |

بھمبر(این این آئی)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر ملک ایک ماہ تک وزیراعظم کے بغیر چل سکتا ہے تو ایسے وزیراعظم کی کیا ضرورت ہے ٗ تخت شریف کا انداز حکمرانی بادشاہت والا ہے۔آزاد کشمیر، بھمبر میں پیپلزپارٹی کے جلسے عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے ملک وزیراعظم کے بغیر چل رہا ہے اگر ملک ایسے ہی چل سکتا ہے تو وزیراعظم کی ضرورت ہی کیا ہے ٗ اس ملک کو بے نظیر وزیراعظم کی ضرورت ہے جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے کہ ہم پر امن پاکستان چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے چارٹر آف ڈیموکریسی کو بھلادیا اگر میثاق جمہوریت پر عمل کیا جاتا تو آج ملک کے حالات ایسے نہ ہوتے جب کہ تخت شریف نہیں چاہتا کہ ملک میں جمہوری ادارے مضبوط ہوں اور حکومت ہر ادارے میں جوڑ توڑ کررہی ہے، کہنے کو تو یہ منتخب اور جمہوری حکومت ہے لیکن انداز حکمرانی تخت شریف کی بادشاہت والا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تاریخ میں بہت کم ایسی شخصیت ہوتی ہیں جو بے نظیر ہوں جب کہ شہید بے نظیر بھٹو آمریت کے خلاف جدوجہد کی علامت بنیں، انہوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے سیاست صرف سیاست نہیں ہے بلکہ اس کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں جب کہ میری سیاست غریبوں، مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں، مظلوموں اور برابری کے لیے ہے میں نظریاتی سیاست کررہا ہوں، آج میڈیا میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ختم ہوگئی ہے اور آخری سانسیں لے رہی ہے لیکن انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تو صرف ٹریلر ہے میں بہت جلد پنجاب اور خیبرپختونخوا کا دورہ کروں گا اور یہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان کے عوام شہید بھٹو کو بھول سکتے ہیں اور نہ شہید بینظیر کو۔چیرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ ہم بے نظیر پاکستان بنانا چاہتے ہیں جہاں تمام پاکستانیوں کو ان کا حق دیا جائے گا، اقلتیوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے، عوام کو روزگار دیا جائے گا، عدالتیں انصاف کریں گی، پولیس لوگوں کا تحفظ کرے گی، افسر شاہی اور سیاستدان عوام کے خادم ہوں گے جبکہ بے نظیر معیشت میں عوام کا پیسا میٹرو جیسے نمائشی منصوبوں پر خرچ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ نہ دیں کیوں کہ یہ ایک ریفرنڈم ہے، اور اگر (ن) لیگ کامیاب ہوجاتی ہے تو ایسا لگے گا کہ یہاں کے عوام نے نوازشریف کی کشمیر دشمن پالیسی کی حمایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…