پیر‬‮ ، 16 مارچ‬‮ 2026 

امریکہ بتائے امن عمل بات چیت سے بڑھانا ہے یا جنگ کر نی ہے،پاک چین دوستی پاک امریکہ کشیدگی کی ایک وجہ ہے، پاکستان کھل کرسامنے آگیا، اہم ترین شخصیت نے امریکہ کوکھری کھری سنادیں

datetime 13  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاک چین آگے بڑھتی دوستی اور سی پیک منصوبہ بھی پاک امریکہ کشیدگی کی ایک وجہ ہے، امریکہ پر واضح کر دیا ہے جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ٗ امریکہ نے 16سال جنگ کو دیئے ٗ6 ماہ افغان امن عمل کو بھی دیئے جاتے ٗامریکہ تعلقات میں نشیب و فراز پاکستانی عوام اور قیادت کیلئے نئی بات نہیں ٗ کچھ معاملات پر ہم امریکہ کے ساتھ ہرگز تعاون نہیں کر سکتے جن میں ایک ہماری خودمختاری اور سالمیت ہے ٗ امریکہ بتائے امن عمل بات چیت سے بڑھانا ہے یا جنگ کر نی ہے ٗ پاسپورٹ کے مطابق ملا منصور ایران سے آرہے تھے، تفتان کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے ٗ انگوراڈا چیک پوسٹ افغانستان کے حوالے نہیں کی جارہی ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و خارجہ امور کا مشترکہ اجلاس ہوا جس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات میں نشیب و فراز پاکستانی عوام اور قیادت کیلئے نئی بات نہیں،پاک امریکہ کشیدگی کی ایک وجہ امریکہ کا بھارت کو ترجیحی بنیادوں پر پسند کرنا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات پر ہم امریکہ کے ساتھ ہرگز تعاون نہیں کر سکتے جن میں ایک ہماری خودمختاری اور سالمیت ہے،امریکہ سے کہا ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ امن عمل بات چیت سے بڑھانا ہے یا جنگ سے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے 5 ہزار جوان شہید ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی اور ہمارا بیانیہ درست ہے،امریکہ سے کہا ہے کہ ہماری امن کے لیے کوششیں کامیاب ہونے دی جائیں،ہم پاکستان میں امن کے لیے افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں۔سی پیک کا فائدہ صرف پاکستان ٗچین کو نہیں بلکہ پورے خطے کو ہوگا،افغانستان کا صوبہ قندھار سی پیک سے سب سے پہلے فائدہ اٹھائے گا۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ڈرون حملے نے پاکستان کی خودمختاری کو ٹھیس پہنچائی ، ملا منصور کا پاسپورٹ جلنے سے بچ جانے کے معاملے پر غور کر رہے ہیں،ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ اصلی ہے یا نہیں،ملا منصور کا ہی ہے یا نہیں۔پاسپورٹ کے مطابق ملا منصور ایران سے آرہے تھے، تفتان کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ ہم نے رچرڈ اولسن کی سربراہی میں ملنے والے امریکی وفد سے کھل کربات کی ہے، امریکیوں کا کہنا ہے کہ ملا منصور امریکی افواج کے لئے خطرہ تھا، امریکیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ وہ بات چیت سے انکاری تھا، ہم نے وفد سے کہا کہ ملااختر منصور اگر مذاکرات حق میں نہیں تھا تو وہ انکاری بھی نہیں تھا ، ملا اختر منصور کی ہلاکت سے امن عمل کو دھچکا لگا ہے،انہوں نے کہاکہ امریکہ نے ڈرون حملہ کرنے میں جلد بازی کی، اس نے جہاں 16 سال جنگ کو دیے وہیں 6 ماہ افغان امن عمل کو بھی دیتا۔ امریکی وفد نے اتفاق کیا کہ امن کے لئے مذاکرات ہی حل ہے۔اعزاز چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتاہے کیونکہ یہ خطے میں امن کے لئے ضروری ہے، یہ تاثر درست نہیں کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت پر پاکستان تاخیر سے جاگا ہے، گزشتہ برس جولائی میں امن مزاکرات کو سبوتاژکرنے کے لیے خبر پھیلائی گئی کہ ملا عمر کراچی میں انتقال کرگئے ہیں حالانکہ ملاعمر کبھی بھی کراچی نہیں آئے، وہ زابل میں رہے اور وہیں سپرد خاک کئے گئے ہیں۔میڈیا میں خبریں ہیں کہ ایران داعش کے خلاف طالبان سے اتحاد کررہاہے، ہماری ایران سے بات ہوئی ہے کہ ملااخترمنصور ایران میں کیا کررہا تھا، اب ایرانی حکام اپنے ملک میں اس معاملے کی تحقیقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انگوراڈا چیک پوسٹ افغانستان کے حوالے نہیں کی جارہی ، پاکستان نے افغانستان کی حدود میں صرف تحفہ کے طور پر دروازہ تعمیر کیا گیا۔ وزیر اعظم نے افغان حکومت کے سخت بیانات کا جواب دینے سے روک رکھا ہے لیکن امریکہ سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کو ایسے بیانات دینے سے روکاجائے۔سکرٹری خارجہ نے بتایا کہ ہم نے امریکہ سے خاص طور پر بھارت کے حوالے سے پالیسیوں پر بات کی ہے اور امریکہ کو بتادیا ہے کہ اس کی پالیسیاں خطے کے لئے عدم استحکام پیدا کرسکتی ہیں ، ہم نے ہر ایک کو آگاہ کردیا ہے کہ پاکستان اپنا میزائل پروگرام کسی صورت بند نہیں کرے گا، نیوکلیئر سپلائر گروپ پر بھی ہم نے خاموش سفارت کاری کی ہے۔ ہم نے امریکہ سمیت دیگر ممالک کو بتادیاہے کہ سی پیک کسی ملک کے لئے خطرہ نہیں ہے، گوادر اور چاہ بہار کے درمیان کوئی اسٹرٹیجک نسبت نہیں، گوادر بندرگاہ کا پہلا فائدہ افغان صوبہ قندھار کو ہوگا۔ اجلاس کے دوران دفاعی حکام نے کمیٹی ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکہ سے ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے معاہدے کے متعلق بتایا کہ کانگریس کا کہنا ہے کہ ٹیکس گزاروں کا پیسہ خرچ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، امریکہ میں یہ صدارتی انتخابات کا وقت ہے اور اس وقت پینٹاگان اور وائٹ ہاؤس کانگریس کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)


بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…