اسلام آباد (آئی این پی)اکیسویں صدی بالعموم ایشیاء اور بالخصوص چین کی صدی ہے ، چین کا دنیا کی عظیم طاقت کے طورپر ابھرنا کسی بھی دوسرے عالمی واقعہ کے مقابلے میں اکیسویں صدی کا بہت بڑا کارنامہ ہے، یہ صدی کی ترقی اور تعمیر کا ایک اہم کایا پلٹ کارنامہ ہے ، کسی دوسرے واقعہ نے عالمی سطح پر اتنے اثرات مرتب نہیں کئے جتنے چین کی تاریخی ترقی نے پیدا کئے ہیں ، چین نے اپنی قومی کمتری اور کمزوری کو اپنے اور دیگر اقوام کیلئے مواقعے اور طاقت میں تبدیل کر دیا ہے ۔ یہ بات چین میں 10سال تک سفارتی عہدے پر فائز رہنے والے سابق پاکستانی سفارتکار سید حسن جاوید نے اپنی حال ہی میں شائع ہونیوالی کتاب’’ رائز آف چائنا اینڈ دا ایشیئن سنچری ‘‘ میں کہی ہے ۔ حسن جاوید کی یہ چوتھی کتاب ہے جو انہوں نے چین کے بارے میں لکھی ہے ۔ سید حسن جاوید نے طالبعلم کے طورپر چین میں دس سال قیام کیا جہاں انہوں نے چینی زبان ، ادب اور تاریخ کا مطالعہ کیا ، بعد ازاں انہوں نے سفارتکار کے طورپر اپنے کیر یئر کا آغاز کیا ،سیدحسن جاوید لکھتے ہیں کہ اگرچہ چینی باشندوں کی آبائی سرزمین چین ،تائیوان ، ہانگ کانگ اور سنگا پور ہے تاہم غیرممالک میں بھی ان کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے اور یہ دنیا کی پوری آبادی کا پانچواں حصہ ہے ،دنیا کی کل پیداوار میں بھی چینیوں کا پانچواں حصہ ہے اور ان کے پاس پانچ ٹریلین کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی موجود ہیں ، یہ ایک ایسی برادری ہے جو علم ، معاشی خوشحالی ، ٹیکنالوجی میں نئی نئی ایجادات اور سماجی ترقی کیلئے ہمیشہ متحرک رہتی ہے ،چین کی ترقی ایشیاء کی صدی دنیا کے تمام ممالک کیلئے ترقی کے مواقعے لائی ہے، خاص طورپر یورو ایشیاء بالخصوص پاکستان کیلئے ۔ چین کامیابی سے حیرت انگیز ترقی کی منازل طے کررہا ہے اور دنیا زیادہ دیر تک اس سے دور نہیں رہ سکتی ۔وہ لکھتے ہیں کہ ایشیاء میں بیداری کی لہر شروع ہو گئی ہے اور وہ سن بلوغت کو پہنچے کی کوشش کررہا ہے ، توقع ہے کہ 2050ء تک وہ اس منزل تک پہنچ جائے گا ، ایشیاء میں خوش قسمتی سے آبادی بہت زیادہ ہے اور یہ آبادی تعداد کے ذریعے معیار کو بہتر بنانے میں اپنا کردار اد ا کر کے آئندہ سو برس تک قائدانہ کردار ادا کرسکتی ہے اور عالمی برادری کی آئندہ نسلوں اور تہذیب کی شناخت کیلئے گذشتہ پانچ سو سال میں مغربی سائنسدانوں نے جو کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کو سمیٹ سکتی ہے ۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ صرف تاریخ ، ثقافت اور جغرافیہ قوموں اور معاشروں کو متحد نہیں رکھ سکتے ، نہ ہی قومیں اپنے مفادات ، نظریات یا سیاسی ثقافت کی بنیاد پر اکٹھی رہ سکتی ہیں ، یہ تمام عنصر ان کے اپنے حقوق کیلئے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں تا ہم قومیں اور معاشرے اپنی مشترکہ اقدار میں پختہ یقین کے ساتھ اکٹھے رہ سکتے ہیں ، پاکستان اور چین مشترکہ اقدار کے نظام میں پختہ یقین رکھتے ہیں جو ان دونوں کو بے مثل انداز میں ایک دوسرے کے زیادہ قریب کر سکتا ہے ۔ ٓ
اکیسویں صدی کا بڑا کارنامہ،چین نے تاریخ رقم کردی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری
-
افغان کرکٹر راشد خان پر افغانستان آنے کی پابندی عائد
-
حکومت کا سرکاری وخودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کافیصلہ
-
موسلادھار بارش کی پیش گوئی، الرٹ جاری کر دیا گیا
-
دانیہ شاہ کے شوہر حکیم شہزاد نے نویں جماعت کی طالبہ سے پانچویں شادی کرلی
-
اس سال کتنے روزے ہوں گے اور عید کے چاند کی پیدائش کب تک ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
این ڈی ایم اے نے ملک میں بارشوں اور برفباری کے حوالے سے الرٹ جاری کر
-
راولپنڈی ،شوہر سے ناراضی پر گھر آئی بہن کو بھائی نے ہلاک کر کے قتل کردیا
-
جنگ کے خاتمے کیلیے پیوٹن نے ایسی کیا پیشکش کی تھی جسے ٹرمپ نے مسترد کر دیا ۔۔؟ جانیے
-
اسلام آباد و لاہور ایئر پورٹ کی پروازوں کیلئے نیا نوٹم جاری
-
کیا آپ پاسپورٹ بنوانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ بڑی خبر آگئی
-
اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں جیز (Jazz)کی جانب سے 5G چل گیا ، سوشل میڈیا پر صارفین کے پیغامات



















































